تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 94
تاریخ احمدیت۔جلد 25 94 سال 1969ء کہ بڑے سے بڑا امیر بلکہ دنیا کے سارے امراء اور دولتمند ا کٹھے ہو کر بھی اس جزا کا کروڑواں حصہ بلکہ اربواں حصہ جزا یا بدلہ یا اجرت یا تنخواہ ( جو نام بھی آپ رکھ لیں) 90 نہیں دے سکتے۔یہ نہایت کامیاب تربیتی کلاس تھی جس میں مجموعی طور پر ۶۵ امجالس کی طرف سے ۳۵۰ خدام اور ۲۸ اطفال نے شرکت کی۔اس سال مجالس کی تعداد پچھلے سال سے دگنی سے بھی زیادہ تھی۔مجالس کی نمائندگی کے اعتبار سے ضلع ساہیوال اول اور ضلع سرگودھا اور ضلع پشاور بالترتیب دوم اور سوم رہے۔آل ورلڈ گورونانک کنونشن امرتسر میں احمد یہ وفد 91 شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی امرتسر کی طرف سے ۲۶ جولائی ۱۹۶۹ء کو قادیان میں تارملا کہ امرتسر میں حضرت بابا نانک کی پانچصد سالہ برسی کی تقریبات کے سلسلہ میں کل تیجا سنگھ سمندری ہال میں کنونشن ہورہا ہے۔اس میں جماعت احمدیہ کے نمائندہ کو شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔جماعت کی طرف سے اس کنونشن میں محترم صاحبزادہ مرزا اوسیم احمد صاحب ناظر دعوت وتبلیغ صدرانجمن احمد یہ قادیان، چوہدری عبد القدیر صاحب نائب ناظر امور عامہ اور گیانی عبد اللطیف صاحب نے شرکت کی۔کنونشن کو سنت فتح سنگھ صاحب صدرا کالی دَل ، سنت چنن سنگھ صاحب صدر شر و منی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی ، سردار حکم سنگھ صاحب گورنر راجستھان ، سردار گورنام سنگھ صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب اور سردار گیان سنگھ صاحب راڑ یوالہ سابق وزیراعلیٰ پیسو کے علاوہ بہت سے سکھ اکا برین نے خطاب کیا۔مسلمانوں کی طرف سے کنونشن کو خطاب کرنے والے جماعت احمدیہ کے واحد نمائندے محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب تھے۔آپ نے بتایا کہ حضرت بابا نانک صاحب کو جماعت احمد یہ ولی اللہ مانتی ہے اور آپ کی تعلیم کو باہمی پیار و محبت اور امن کے لئے ضروری اور مفید بجھتی ہے۔حضرت بابانا تک صاحب کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا ہے اس میں سے چند اقتباسات پڑھ کر آپ نے سنائے اور اس کی تشریح کی۔اور حاضرین کو تحریک کی کہ جس مشن کو آپ نے شروع فرمایا اور جس پر آپ نے عمل کیا اس پر سب عمل پیرا ہوں تا کہ امنِ عالم کے قیام میں ہمارا حصہ ہو سکے۔جماعت احمد یہ اس مشن کی تکمیل کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ٹریکٹ اور کتب شائع کر رہی ہے۔گورونانک