تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 848
تاریخ احمدیت۔جلد 24 826 سال 1968ء مشتمل تھا۔جونہی ہم برآمدہ میں داخل ہوئے سامنے دیوار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر پر نظر پڑی۔بس جو دل کی کیفیت ہوئی وہ نا قابل بیان ہے۔کہاں قادیان سے حضور علیہ السلام کی دعوتِ اسلام کی آواز کا اٹھنا اور کہاں افریقہ کے ایک گاؤں کے ایک کچے مکان میں حضور علیہ السلام سے ایک غریب افریقن کی محبت کا یہ نظارہ۔ایک زمانہ تھا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا میں تھا غریب و بیکس و گمنام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لیکن آج دنیا کے کونے کونے میں آپ کا نام نہ صرف پہنچ چکا ہے بلکہ آپ پر جانیں نچھاور کرنے والی جماعتیں پیدا ہو چکی ہیں۔اتوار کے دن صبح پریذیڈنٹ صاحب کی طرف سے مہیا کردہ کار میں ہم ان کے فارم کو دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔یہ فارم منر و یا سے ۶۵ میل کے فاصلہ پر ہے۔سولہ سوا یکڑ کا یہ رقبہ ربڑ اور کافی کے بڑے بڑے باغات پر مشتمل ہے۔فارم کے مینجر کو خاص ہدایات پریذیڈنٹ صاحب کی مل چکی تھیں اس لئے انہوں نے فارم کی خوب سیر کرائی اور پریذیڈنٹ صاحب کی ذاتی رہائش گاہ بھی دکھائی یہاں پر ایک چڑیا گھر بھی ہے۔دو پہر کے کھانے کا انتظام بھی فارم پر ہی کیا گیا تھا۔دو شام کو مسلمانان لائبیریا کے ایک اجتماع کو خاکسار نے خطاب کیا اور رات کے گیارہ بجے تک دلچسپ سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رہا۔اگلے روز یعنی سوموار مورخہ ۲۹ جولائی کی شام کو روانگی تھی۔دو پہر کو برطانوی سفیر صاحب کے ہاں کھانے پر گئے۔بڑے تپاک سے پیش آئے۔انہوں نے چند دیگر مسلمانوں کو بھی مدعا کیا ہوا تھا۔انگلستان کی موجودہ گرتی ہوئی حالت کا ذکر بھی ہوتا رہا۔شام کو ائیر پورٹ پہنچے تو کثیر تعداد میں مسلمان رخصت کرنے کے لئے موجود تھے۔V۔I۔P کمرہ میں ہم سب کو لے جایا گیا۔ایئر پورٹ پر وزیر خارجہ اور ایک اور وزیرو پولیس اور فوج کے نمائندگان، مسلم کانگرس کے گورنر صومومومو اور درجنوں اور احباب موجود تھے۔اس سال میں مکرم مولوی مبارک احمد صاحب ساقی احمدی مبلغ کی کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ریڈیولائبیریا پر اسلامی تعلیم کے متعلق مضامین کے پڑھے جانے کا بھی آغاز ہوا۔اس سے قبل عیسائی ریڈیو سے فائدہ اٹھاتے تھے لیکن اسلام کے متعلق کوئی ایسا انتظام موجود نہ تھا کہ اس کی