تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 847
تاریخ احمدیت۔جلد 24 825 سال 1968ء خوش آمدید کہا۔اس کے بعد منرویا کے مسلمان گورنر نے مسلمانانِ لائبیریا کی طرف سے خاکسار کو لائبیریا کا خاص لباس جو ایک چغہ اور ٹوپی کی صورت میں تھا پہنایا۔یہ لباس یہاں کے رواج کے مطابق خاص خاص لوگوں کو پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد خاکسار نے تقریر میں حدیث نبوی مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهِ مَا حوالہ دیتے ہوئے جناب پریذیڈنٹ صاحب کا شکریہ ادا کیا نیز مسلمانانِ لائبیریا کا بھی شکریہ ادا کی۔اس تقریر میں خاکسار نے خصوصیت سے ہستی باری تعالیٰ اور وحدانیت پر زور دیا۔اور اس بات کا ذکر کیا کہ موجودہ لادینی دور میں تمام مذاہب کا اشتراک اگر اس ایک امر پر ہو جائے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں تو دنیا ممکن ہے پھر مذہب کی طرف راغب ہو جائے۔خاکسار نے بتایا کہ امن صرف مذہب کے ذریعہ ہی قائم ہو سکتا ہے۔جب تک لوگ اپنے خالق سے رابطہ پیدا نہ کریں گے ہرگز اطمینان اور سکون کا منہ نہ دیکھیں گے۔خاکسار کی تقریر کے بعد جناب پریذیڈنٹ صاحب نے تقریر کی۔پریذیڈنٹ صاحب نے خاکسار کو خوش آمدید کہا اور اس بات پر زور دیا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار اطمینانِ قلب کے حصول کے لئے نہایت ضروری ہے اور یہ ان کا خدا تعالیٰ پر پکا ایمان ہے۔آپ کی یہ تقریر بہت جذباتی اور خدا خوفی سے پر تھی جس کا حاضرین پر بھی بہت اثر تھا۔اس دعوت کے موقع پر جناب پریذیڈنٹ صاحب نے پوچھا کہ آپ کی اہلیہ نظر نہیں آئیں۔خاکسار نے جواب دیا کہ وہ تو پردہ دار ہیں۔پریذیڈنٹ صاحب نے فرمایا کہ ان کو مسز ٹب مین سے ملنے کے لئے کل بھجوا دیں۔اس وقت کوئی مرد نہ ہو گا۔چنانچہ اگلے دن خاکسار کی اہلیہ مسز ٹب مین کی ملاقات کے لئے گورنمنٹ ہاؤس گئیں۔مسز ٹب میں بہت تپاک سے پیش آئیں۔میری اہلیہ کو گلے سے لگایا اور پاکستان اور مسجد لندن کے بارہ میں کافی دیر تک گفتگو کرتی رہیں۔اور میری بیوی کی دعوت پر لندن مسجد میں آنا منظور کیا۔اسی دن مکرم ساقی صاحب کے ارشاد پر ہم ایک گاؤں گئے جہاں حال ہی میں ہماری ایک مخلص جماعت قائم ہوئی ہے۔ایک بات نے یہاں طبیعت پر اتنا اثر کیا کہ بیان سے باہر ہے۔گاؤں کے وسط میں ایک کچے مکان کی طرف مکرم ساقی صاحب نے اشارہ کیا کہ یہ اس گاؤں کی جماعت کے پریذیڈنٹ ہیں۔بے حد غریب آدمی نظر آتے تھے۔مکان خستہ اور کچا اور صرف ایک کمرہ اور برآمدہ پر