تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 832
تاریخ احمدیت۔جلد 24 810 سال 1968ء وضاحت کرنے کے علاوہ مکرم مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم دوسرے اخبارات میں بھی مضامین شائع کرواتے رہے۔فنجی یکم جنوری ۱۹۶۸ء کو مسجد محمود (مارو) کا افتتاح عمل میں آیا۔اس کی بنیاد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے نومبر ۱۹۶۵ء میں رکھی تھی اور اس کی تکمیل مولوی نورالحق صاحب انور اور شیخ عبدالواحد صاحب، محمد ایوب خان صاحب (صدر جماعت احمد یہ مارو) اور جماعت احمد یہ مارو کے تمام مخلصین کی مخلصانہ کوششوں اور قربانیوں سے ہوئی۔احباب جماعت نے مزدوروں کی طرح کام کیا اور اس کی تعمیر میں ذوق و شوق سے حصہ لیتے ہوئے رقوم کے علاوہ تعمیراتی سامان کی صورت میں بھی امداد کی۔اسی طرح مبارک احمد خان صاحب آف ناندی اور فیروز خاں صاحب صووا نے بھی جماعت کی سرگرمیوں میں والہانہ حصہ لیا۔مسجد محمود کے افتتاح کے موقعہ پر مولوی نورالحق صاحب انور انچارج احمد یہ مشن نبی نے احباب جماعت کو ناندی میں بھی خدا کا گھر تعمیر کرنے کی تحریک فرمائی۔جس پر ڈاکٹر شوکت علی صاحب پی ایچ ڈی پرنسپل ناندی کالج نے کالج کے ماحول میں ایک نہایت موزوں اور وسیع قطعہ زمین فوراً پیش کر دیا۔یہ پلاٹ انہوں نے پرنسپل لان کیلئے رکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کیا حالانکہ وہ ان دنوں اپنے اہل وعیال سمیت ایک نہایت تنگ جگہ میں گزارہ کر رہے تھے۔اس پلاٹ کے جماعت کے نام منتقل ہونے اور نقشہ کی تیاری کے بعد مولوی نور الحق صاحب انور نے ۱۴ جنوری ۱۹۶۸ ء کی سہ پہر کو اس خانہ خدا کا سنگ بنیاد رکھا۔سال کے شروع میں شیخ عبدالواحد صاحب جزیرہ ونیوالیو (VANUA LEVU) میں پیغام حق پہنچانے اور جماعتوں کی تعلیم وتربیت کیلئے تشریف لے گئے جس سے احمدیوں میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی۔فنجی کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے احمدیوں کو قرآن مجید اور اس کا ترجمہ اردو زبان اور د مینیات کی کتب پڑھانے کے لئے مندرجہ ذیل آٹھ مراکز قائم کئے گئے (۱) وائی لیو و (۲) وونی مولی (۳) سیگا نگا (۴) حلقہ مسجد مبارک (۵) بالے لاوا (۶) ناسروانگا (۷) بولیلی کا (۸) ناسیا ٹاؤن۔