تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 833
تاریخ احمدیت۔جلد 24 811 سال 1968ء مولوی نور الحق صاحب انور ایک ایمان افروز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ :۔یہ واقعہ ان ایام سے تعلق رکھتا ہے جبکہ یہ عاجز بطور مبلغ اسلام وہاں مقیم تھا اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور احمدیت کی حقانیت کا چمکتا ہوا نشان ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کی کچھ تفصیل دے دی جائے۔یہ نشان ۱۹۶۸ء میں ’با (BA) کے مقام پر ظاہر ہوا۔جو جزیرہ وٹی لیوو (VITI LEVU) کا مسلمان اکثریت رکھنے والا اہم قصبہ ہے۔میرے نجی پہنچنے سے قبل اس علاقہ میں جماعت کا قیام نہ ہوا تھا۔۱۹۶۸ء میں خاکسار نے وہاں کا تبلیغی دورہ کرنے کا پروگرام بنایا۔اس سفر میں برادرم شوکت علی صاحب پی۔ایچ۔ڈی پرنسپل ناندی کالج میرے ہمراہ تھے۔جب ہماری کار دریا کے کنارے باکے اس مقام پر پہنچی جہاں سے اس کی حد شروع ہوتی ہے تو میں نے بستی میں داخلہ سے قبل مسنون دعا مانگنے کی غرض سے بھائی شوکت علی کو رکنے کے لئے کہا۔جونہی ہم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کرم نوازی سے وہ کیفیت بھی میسر فرما دی جو قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا کس زبان سے شکر ادا کروں کہ اس پہلے دورہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی فتح مبین کے آثار ظاہر فرما دیے۔با کے باسیوں نے ہمارا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک استقبالیہ کا پروگرام بنایا۔اس موقع پر خاکسار کی تقریر بھی ہوئی اور اس کے جلد بعد ایک خاندان جو ناندی کے احمدیوں سے تعلق رشتہ داری رکھتا تھا احمدیت کے قریب آ گیا اور تھوڑے عرصہ بعد ایسا فضل ہوا کہ قصبہ کے عین وسط میں مسجد اور دار التبلیغ کے طور پر لکڑی کا ایک بنا بنایا نہایت عمدہ اور فراخ مکان خریدنے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے دے دی۔اس طرح بفضل خدا ہمارا مرکز وہاں قائم ہو گیا۔اس کے بعد میں اکثر کوشش کرتا کہ وہاں جا کر قیام کروں۔لیکن ہجوم کار اور مصروفیت کے باعث اس کا کم ہی موقع ملتا۔اور ہمارا دار التبلیغ اکثر خالی رہتا۔اس سے فائدہ اٹھا کر مخالفین احمدیت نے اس کو آگ لگانے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔جس کی ہمیں کچھ خبر نہ تھی اور ایک رات جب کہ کوئی متنفس اس مکان میں موجود نہ تھا نصف شب کے قریب اس کے چوبی ستون سے مٹی کے تیل میں بھیگا ٹاٹ باندھ کر اسے تیلی دکھا دی۔مقصد یہ تھا کہ راتوں رات لکڑی کی عمارت جل کر بھسم ہو جائے گی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر ہمارے مرکز کی حفاظت فرمائی اور وہ اس طرح کہ جو نہی آگ لگائی گئی پہرہ پر متعین سرکاری چوکیدار کا گذرا دھر سے ہوا اور آگ دیکھ کر وہ فورا وہاں پہنچا۔اور قبل اس کے کہ آگ پھیلے اس نے اس پر قابو پا