تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 825
تاریخ احمدیت۔جلد 24 803 سال 1968ء ڈچ گیانا کے قیام کے دوران آٹھ جلسوں کا انتظام کیا گیا۔علاوہ ازیں عام جلسوں کے ، متعدد نجی محفلوں کا انعقاد عمل میں آتا رہا۔اس سلسلہ میں ہمارے ایک احمدی دوست نے نئی کار خرید کر اس تبلیغی کام کے لئے وقف کر دی اور خود بھی اپنا قیمتی وقت خرچ کرتے رہے۔مخالف حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے محض اپنے خاص فضل سے ایسے افراد پیدا کر دیئے جو اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ان کے قیام کے عرصہ تک ۲۵ را فراد بیعت کر کے سلسلہ حقہ سے وابستہ ہو چکے 79 سیرالیون جماعتہائے احمد یہ سیرالیون کا انیسواں سالانہ جلسہ ۱۵، ۱۶، ۷ افروری ۱۹۶۸ء کو بو (Bo) کے مقام پر منعقد ہوا۔یہ جلسہ احمدیہ سکول کے زیرتعمیر وسیع و عریض مسجد میں ہوا۔خواتین کے لئے پرائمری سکول میں پردہ کا معقول انتظام تھا۔جلسہ کے دوران انیس افراد نے قبول حق کا اعلان کیا۔افتتاحی نشست کی صدارت الحاج خطیب سکندری صاحب سابق سفیر متعینہ نائیجیریا نے کی۔مولوی عبدالشکور صاحب امیر و مشنری انچارج نے جلسہ سالانہ کی اہمیت واضح کرنے کے بعد احمد یہ مشن کے مکمل شدہ یا زیر تعمیر تین منصوبوں کا ذکر کیا یعنی جو رو میں احمدیہ سیکنڈری سکول اور نیر مسجد کی تعمیر ، بواجے بو کے مقام پر احمد یہ سیکنڈری سکول کی عمارت جو تعمیر کے آخری مراحل میں ہے نیز بو (Bo) میں احمد یہ سیکنڈری سکول کے احاطہ میں مسجد کی تعمیر۔جلسہ کے دیگر قابل ذکر مقررین میں وی۔وی۔کاہلوں صاحب نائب صدر جماعت سیرالیون، محمد کمانڈا صاحب بونگے سیکرٹری جنرل جماعت سیرالیون علی روجرز صاحب صدر جماعت بو (Bo)، لطف الرحمن صاحب محمود، معلم عباس کمارا صاحب، مولوی نظام الدین صاحب مہمان، مولوی نصیر احمد خان صاحب، ایم اے بنگو را صاحب ، مولوی ناصر احمد صاحب، مبارک احمد صاحب نذیر اور مولوی اقبال احمد صاحب شاہد شامل تھے۔جولائی ۱۹۶۸ء سے پہلے مولوی محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری غانا میں احمد یہ مشنری ٹریننگ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات بجالا رہے تھے۔اگست ۱۹۶۸ء میں آپ نے مرکز کی ہدایت پر سیرالیون مشن کا چارج سنبھالا۔آپ نے فری ٹاؤن میں کچھ عرصہ قیام کے بعد مولوی عبدالشکور صاحب کے ہمراہ بو (Bo) کا سفر اختیار کیا اور وہاں جماعت سے خطاب کیا۔اس علاقہ کے پاکستانی اور لوکل مبلغین کی ایک میٹنگ بلا کر تبلیغی کام کو وسعت دینے کیلئے باہمی مشورہ سے بعض اہم