تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 803
تاریخ احمدیت۔جلد 24 781 سال 1968ء امریکہ بیرونی ممالک میں جماعتی مساعی جناب سید جواد علی صاحب سیکرٹری امریکہ مشن نے ۳۲ مارچ ۱۹۶۸ء کو آکسفورڈ شہر کے ویسٹرن کالج میں متعد دلیکچر دئیے اور اسلام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔نیز سوالات کے جوابات دیئے۔طلباء اور پروفیسروں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ازاں بعد ڈیٹن کے ایک چرچ میں بھی ان کا لیکچر ہوا۔ڈیٹن کے قریب ایک اور چرچ کے طلباء کی طرف سے آپ کو مدعو کیا گیا۔طلباء کی تعداد ساٹھ کے قریب تھی۔یہاں بھی آپ نے اسلام کا تعارف کرایا۔ڈیٹن انٹر نیشنل کلب کے ایک اجلاس میں آپ نے قرآن مجید اور احادیث کی دعاؤں کا متن اور ان کا انگریزی ترجمہ سنایا۔اسلامی دعاؤں کی جامعیت اور افادیت سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔اخبار ڈیٹن ڈیلی نیوز نے آپ کا انٹرویو تصویر دے کر شائع کیا۔خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشان دربارہ ڈاکٹر ڈوئی کو اس اخبار نے نمایاں جگہ دی۔جس کے نتیجہ میں بعض احباب مزید معلومات کے حصول کے لئے مشن میں تشریف لائے۔جناب سید جواد علی صاحب نے اپنی سہ ماہی رپورٹ (جنوری تا مارچ ۱۹۶۸ء) میں لکھا کہ:۔”بہائی مذہب کے دو جلسوں میں مجھے شرکت کے لئے دعوت دی گئی۔یہ جلسے شکاگو میں منعقد ہوئے اور ان کی اچھی طرح پہلیٹی کی گئی۔ان جلسوں میں وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب بے کار ہو گئے ہیں اور اب بہائیت ہی نئے زمانے کی ضروریات پورا کر سکتی ہے۔میں نے پہلی میٹنگ میں تعدّ دازدواج اور اسلام میں عورت کے مقام پر لیکچر دیا جو بہت کامیاب رہا۔اس مذہب کے اکثر ممبر یہ نہیں جانتے کہ خود عبد البہاء کی دو بیویاں تھیں اس حقیقت کے اظہار پر وہ بہت حیران ہوتے ہیں۔دوسرے اجلاس میں پہلے اجلاس میں کی گئی تقریروں پر سوالات اور ان کے جوابات پر وقت دیا گیا تھا۔عام لوگ اس اجلاس میں مدعو نہیں کئے گئے تھے۔علاوہ ازیں بہائیوں نے اپنے مرکزی مقام لمیٹ سے ایک خاص مقر ر اس موقع پر بلایا۔جب ہماری بولنے کی باری آئی تو ہم نے دوبارہ اسلام میں عورت کا مقام“ کو پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ اب اسلام ہی ایک ایسا مذ ہب ہے جو مستقبل میں