تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 801
تاریخ احمدیت۔جلد 24 779 سال 1968ء اور سنت رسول کی طرف رجوع کی تحریک کو شروع فرمایا۔اور شروع ہی سے یہ اعلان فرمایا کہ یہ تحریک تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔اور حال میں قطب شمالی کے بہت نزدیک ( جہاں چار ماہ کی رات ہوتی ہے ) ایک چھوٹے سے قصبہ سے آنے والے ایک خط کے ذریعہ اس امام کے نام کو پہلی دفعہ سن رہا تھا۔ہمارے محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمان تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک فرقہ صراط مستقیم پر ہو گا۔ہمارے زمانہ میں یہ فرقہ واحدہ صرف اور صرف جماعت احمدیہ ہی ہو سکتی تھی جن کا ایک امام تھا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چودھویں صدی اختتام کے قریب تھی۔اس لئے ضروری تھا کہ مسیح اور مہدی آپ کا ہو۔میں نے چودھویں صدی کے اختتام کا انتظار نہ کیا۔اپنے اہل وعیال کے ساتھ تر کی واپس آتے ہوئے کوپن ہیگن میں احمد یہ سنٹر کی زیارت کی اور امام کمال یوسف صاحب کے ساتھ متعارف ہوا۔نہایت درجہ سادہ اور نمود و نمائش سے دور عاجزانہ طور پر بنائی گئی خوبصورت مسجد میں، میں نے اپنے چھوٹے بچے کو پہلی دفعہ نماز پڑھائی۔اس کے اسی طرح سادہ، صاف ستھری اور شیریں (اور پیاری) مسجد میں پہلی دفعہ نماز پڑھنے پر میں بے حد خوش تھا۔کیونکہ حقیقی اسلام کا عقیدہ، طرز رہائش اور عبادت سادہ، صاف ستھری اور پیاری ہے۔اور نمود و نمائش سے بہت دور ہے۔کوپن ہیگن سے وطن واپس آتے ہوئے راستہ میں کار چلاتے ہوئے مجھے یہ احساس تھا کہ میں اپنے دین میں صراط مستقیم پر آگے بڑھ رہا ہوں۔اس سے مجھے حقیقی خوشی نصیب ہوئی۔INVITATION کا ترکی زبان میں ترجمہ کرنے والے، گہرا دینی مطالعہ رکھنے والے اور صاحب علم ہمارے قابل صد احترام بزرگ جناب شناسی سی بر صاحب (SINASI SIBER) کے ساتھ از میر میں ہماری پہلی ملاقات کے موقع پر انہوں نے مجھے خلاصہ یوں فرمایا :۔”بیٹا ! میں قبرص میں پیدا ہوا اور بڑا ہوا۔اپنے ماحول سے، نیز غیر ملکی زبان کے طور پر انگریزی زبان اور اس کے لٹریچر سے میں نے مغربی کلچر حاصل کیا۔ہمارے دین کی تفسیر اور تدقیق کرنے والے بعض تنگ نظر اہل دین محققین کے بیانات اور اعمال کو دیکھ کر قریب تھا کہ میں عیسائی ہو جاؤں۔خدا تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے مجھے اس بد انجام سے بچالیا ہے“۔کچھ عرصہ کے بعد مکرم و محترم جناب مرزا مبارک احمد صاحب انقرہ تشریف لائے اور ہمارے گھر کو بھی شرف بخشا۔ہوائی اڈہ پر موصوف کو رخصت کرتے ہوئے میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کہ اس نے