تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 800 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 800

تاریخ احمدیت۔جلد 24 778 سال 1968ء ذکر کیا اور اسے پوچھا کہ کیا مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی نشانی کے طور پر رمضان کے مہینہ میں سورج کو بھی اور چاند کو بھی گرہن لگنے کے بارہ میں کوئی حدیث موجود ہے یا نہیں۔اس کے جواب میں میرے دوست نے مجھے لکھا کہ میں نے حکومت ترکی کے دفتر امور دینیہ کے ساتھ رابطہ قائم کر کے اس بارہ میں معلومات حاصل کی ہیں۔ان کے بیان کے مطابق ایسی ایک حدیث واقعی مروی ہے۔مگر یہ ضروری ہے کہ رمضان کے پہلے دن چاند گرہن نہیں بلکہ سورج گرہن ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اس سوال کا دل و دماغ کے لئے مناسب ترین جواب مل گیا جس نے کئی سال تک مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا اور جس کی وجہ سے میرا آرام اُڑ چکا تھا۔اس طرح مجھے سکون نصیب ہوا۔مگر میں یقین کے مقام تک پہنچنا چاہتا تھا۔ایک دن میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حقیقت حال کو مجھ پر واضح کرے۔اس کے بعد میں سو گیا۔خواب میں میں نے دیکھا کہ چار ہندوستانی ایک لمبے تابوت میں ایک نعش کو اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔تابوت کے اندر موٹے کپڑے میں موجود ی نعش حضرت عیسی علیہ السلام کی مبارک نعش ہے۔اس خواب کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی باقی تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح، نیز ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وفات پاچکے ہیں۔اس بات کا دعویٰ کرنے اور اس کو ثابت کرنے کا مطلب فی الواقع کسر صلیب ہے۔ورنہ گر جاؤں کی چھتوں پر چڑھ کر صلیب کو توڑنا قرآن کریم اور سنت رسول کے خلاف ہے۔یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ایسا خیال قبول نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ ضروری ہے کہ ہماری صدی کا بھی ایک امام ہو۔مگر وہ امام ہے کہاں؟ لیجئے وہ امام آ بھی چکا اور کسر صلیب کر بھی چکا۔آپ نے یہ اعلان کیا کہ میں ہی مسیح اور مہدی ہوں۔رسل و رسائل اور مطبوعات کی ترقی والی اس صدی کے سر پر ساری دنیا کی آنکھوں اور کانوں کے سامنے آپ نے اس پادری کو للکارا جس نے یہ اعلان کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا وقت اب قریب ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کی خوشخبری دینے والا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے دعوی کو حیرت انگیز طور پر جیتا۔آپ نے اسی کے قریب بہت ہی قیمتی کتا بیں لکھیں اور یہ ثابت کیا کہ آپ ایک زبر دست عالم دین ہیں۔آپ نے ماحول پر بے حد اثر کیا۔لاکھوں لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے۔آپ نے اسلام میں حقیقت کی طرف یعنی قرآن کریم