تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 767 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 767

تاریخ احمدیت۔جلد 24 745 سال 1968ء بہت خیال رہتا ہے۔لوگ اپنے گھروں کو تو سجا کر رکھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے گھر کی طرف دھیان بہت کم کرتے ہیں۔ایک دن خاکسار آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی تو فرمایا۔میں بھی دعا کرتا ہوں لیکن حضور انور کو بھی ضرور خط لکھو کیونکہ خلیفہ وقت کا مقام بہت بلند ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبولیت دعا کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور وہ ضرور آپ کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔اس لئے حضور کوضرور خط لکھنا چاہیئے۔حاجی عبد الکریم صاحب آف کراچی وفات: ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء 123 آپ بہت ہی دعا گو اور تہجد گزار بزرگ تھے۔پہلی جنگ عظیم میں آپ سویز میں ڈیوٹی پر مقیم تھے تو وہاں پر انگریزوں کو اسلام کی تبلیغ کیا کرتے تھے چونکہ یہ مصر کا علاقہ تھا۔آپ کو عربی بولنے کی بھی مشق ہو گئی تھی۔آپ مصری لوگوں کو بھی عربی زبان میں تبلیغ کرتے تھے۔چنانچہ آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں ایک دو مصری دوست جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے تھے۔آپ انگریزی میں بہت عمدہ تبلیغی لیکچر دیا کرتے تھے۔آپ نے حیدر آباد سندھ میں’Beauties Of Islam‘اور Simplicity Of Islamic Marriage “ کے عناوین پر دو لیکچر دیئے جن کا حیدر آباد میں بہت دیر تک چر چا رہا۔جہاں جہاں بھی آپ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں مقیم رہے آپ تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ چھوڑتے تھے۔آپ بہت ہی مہمان نواز تھے۔آپ کا پورا نام سرکاری دفتروں میں حاجی عبدالکریم احمدی درج تھا دفتر والے آپ کو مسٹر احمدی کے نام سے ہی پکارا کرتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ جلد سو جاتے اور پھر رات کو بارہ بجے کے بعد بیدار ہوتے اور صبح کی نماز تک تہجد پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔رمضان میں اعتکاف بیٹھنا آپ کا معمول تھا۔چالیس سال سے آپ باقاعدگی کے ساتھ اعتکاف بیٹھے۔جب تک مرکز قادیان رہا اکثر مسجد مبارک قادیان میں اعتکاف بیٹھتے تھے۔فروری ۱۹۳۶ء میں جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی کراچی تشریف لے گئے تو آپ اس وقت جماعت احمد یہ کراچی کے صدر تھے اور حضور انور کے ساتھ کراچی میں ہر جگہ تشریف لے جاتے۔