تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 768
تاریخ احمدیت۔جلد 24 746 سال 1968ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے پہلے سفر یورپ کے بعد ایک لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک فرمائی تھی۔ان دنوں حاجی صاحب مرحوم کی ملازمت چھوٹ چکی تھی۔مرحوم نے چندہ میں حصہ لینے کی غرض سے اپنے گھر کا تمام اثاثہ سڑک پر رکھ کر فروخت کر دیا اور رقم چندہ میں دے دی۔بعدہ ایک کھجور کے پتوں کی چٹائی خرید کر لائے اور اپنی بیوی سے کہنے لگے اس پر بچوں کو سلا دو۔مرحوم کی صاحبزادی کا بیان ہے کہ میرا پہلا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔تو والدہ نے مجھے پہلی زچگی کے لئے گھر پر بلا لیا۔اس وقت حاجی صاحب مرحوم لکھنو میں رہتے تھے۔چند ہی روز میں گھر میں راشن ختم ہو گیا اور فاقوں کی نوبت آگئی۔شام چار بجے بچہ پیدا ہوا۔اور صبح آٹھ بجے تک میں فاقہ سے لیٹی رہی۔امی جان نے سیٹھ خیر دین صاحب مرحوم کے ہاں سے ایک پیالی شکر کی منگائی اور مجھے چائے بنا کر دی اور ابا جان کے ہاتھ پر قرآن مجید رکھدیا اور رو کر کہنے لگیں کہ آپ سے کئی دن سے پوچھ رہی ہوں کہ تنخواہ کب لائیں گے آپ کہتے ہیں آجائے گی۔آخر کیا بات ہے؟ آپ پر رقت طاری ہو گئی انہوں نے بتایا کہ میں نے تین ماہ کی تنخواہ پیشگی لے کر چندہ میں دے دی تھی۔چنانچہ تنخواہ آنے تک آلو ابال ابال کر کھائے۔مورخہ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء کو پونے دو بجے دن آپ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔اسی دن مغرب کی نماز کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپردخاک کئے گئے۔125-