تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 766 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 766

تاریخ احمدیت۔جلد 24 744 سال 1968ء نوجوانوں کو تیار کیا کہ میری اذان کے بعد وہ بھی اذان دیا کریں۔بلکہ ایک وقت میں چار چار آدمی مسجد کے چاروں کونوں میں کھڑے ہو کر اذان دیا کرتے اور سارے گاؤں میں اللہ اکبر کی آواز گونجتی۔آپ کے وہاں قیام کرنے اور رات دن صداقت اسلام پر لیکچرز کی وجہ سے مسلمان دلیر ہو گئے۔صوفی عبدالحکیم صاحب وفات: ۱۱دسمبر ۱۹۶۸ء آپ پیدائشی احمدی تھے۔بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ستر برس عمر پائی۔۲۲-۱۹۲۱ء سے کراچی میں مقیم تھے۔چندہ جات اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیتے رہے۔سلسلہ کی کتابوں کا پورا سیٹ خریدا ہوا تھا۔جو کہ اکثر پڑھتے رہتے۔گھر میں بچوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرواتے۔روزے کثرت سے رکھا کرتے تھے۔جب بھی رات کو دیکھا گیا یا تو نوافل ادا کرتے یا تلاوت قرآن کریم میں مشغول ہوتے۔میاں محمد اشرف صاحب وفات: ۱۲ دسمبر ۱۹۶۸ء آپ مارچ ۱۹۰۸ء میں بذریعہ خط بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔بہت متقی اور دعا گو بزرگ تھے۔احمدیت سے بڑی محبت تھی۔نماز اور روزے کے بہت پابند تھے۔اکثر قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتے رہتے۔حضرت خلیفتہ امیج الثالث کی تحریک تسبیح و تحمید اور درود شریف پر خود بھی عمل کرتے اور ہر ملنے والے کو بھی اس تحریک سے آگاہ کرتے۔آپ اکثر اوقات حضرت خلیفہ المسیح کی صحت کے متعلق دریافت فرماتے کہ الفضل میں کیا اطلاع ہے اور الفضل میں شائع شدہ مضامین کے متعلق بھی دریافت فرماتے رہتے۔آپ ٹانگوں سے معذور تھے۔کمزور ہونے کے باوجود آہستہ آہستہ بیٹھ بیٹھ کر بازار میں آجاتے اور ایک دوکان پر بیٹھ جاتے۔مکرم محمد انور حق از گنج مغلپورہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جمعہ کے دن خاکسار مسجد میں صفائی کی غرض سے آرہا تھا تو آپ دکان پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے جا کر السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا تو فرمایا۔آج جمعہ ہے میرے لئے دعا کرنا۔میں نے جانے کی اجازت طلب کی تو فرمایا اتنی جلدی ابھی تو آئے ہوئے بہت تھوڑا وقت ہوا ہے تو میں نے عرض کیا کہ مسجد کی صفائی کے لئے آیا ہوں۔آپ نے فرمایا ” مجھے بھی مسجد کی صفائی کا