تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 753
تاریخ احمدیت۔جلد 24 66 زندہ جاوید کارنامہ ہے۔100 ڈاکٹر سید جنوداللہ صاحب وفات : ۲۳ /اگست ۱۹۶۸ء 731 سال 1968ء مکرم ڈاکٹر سید جنود اللہ صاحب ڈینٹل سرجن سرگودھا مورخہ ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء میں وفات پاگئے۔مرحوم بہت مخلص احمدی تھے۔آپ روس ( ترکستان) بخارا کے باشندہ تھے۔جو بعد ازاں کاشغر میں قیام پذیر ہوئے۔یہاں پر ایک احمدی دوست کے ذریعہ پیغام حق قبول کرنے کی توفیق ملی اور آپ پھر عملاً برف کی سلوں کے اوپر سے گذرتے ہوئے قادیان کی مقدس بستی پہنچے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی فَإِذَا رَ ايَتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبُوا عَلَى التَّلْحِ کو ظاہری طور پر بھی پورے کرنے کی سعادت پائی۔آپ نے ۱۹۳۹ء میں احمدیت قبول کی اور پھر ہجرت کر کے قادیان آگئے۔قیام پاکستان سے تا وفات سرگودھا میں مقیم رہے اور پریکٹس کرتے رہے۔آپ سرگودھا شہر میں ایک اعلیٰ معالج ہونے کی حیثیت سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔آپ محترم میاں عبدالرحیم صاحب مرحوم مالیر کوٹلوی کے داماد تھے اور پروفیسر مسعود احمد صاحب عاطف اور حمید اختر صاحب کے بہنوئی تھے۔105 مہاشہ محمد عمر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ وفات: ۲ ستمبر ۱۹۶۸ء سلسلہ احمدیہ کے دیرینہ خادم اور نامور مناظر تھے جو پندرہ سال کی عمر میں ہندو دھرم ترک کر کے مشرف بہ اسلام ہوئے۔پہلا نام یوگندر پال تھا۔حضرت مصلح موعود نے محمد عمر نام رکھا۔قبول احمدیت کے بعد قادیان میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔۱۹۲۲ء سے ۱۹۳۰ء تک عربی اور دینی علوم کی تحصیل مکمل کی۔اور جامعہ احمدیہ قادیان سے مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔مولوی نذیر احمد صاحب مبشر ، شیخ مبارک احمد صاحب ، مولوی عبدالواحد صاحب ، مولوی عبد الرحمن صاحب انور اور مولوی چراغ الدین صاحب کے کلاس فیلو تھے۔۱۹۳۱ء سے اخیر دم تک مربی سلسلہ احمدیہ کی حیثیت سے گرانقدر خدمات بجالاتے رہے۔متحدہ ہندوستان میں ہندو اور اچھوت اقوام تک نہایت کامیابی سے پیغام حق پہنچایا۔اور آریہ سماج اور سناتن دھرم و دوانوں سے کامیاب مناظرے کئے۔بہت سے مناظرات میں آپ کو