تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 754 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 754

تاریخ احمدیت۔جلد 24 732 سال 1968ء مولانا ابوالعطاء صاحب سے رفاقت کا شرف بھی حاصل ہوا۔مہاشہ محمد عمر صاحب اپنے خودنویس سوانح ( جیون یا ترا) میں تحریر فرماتے ہیں:۔” میرا جنم آج سے تقریباً چھپن برس پہلے ضلع گورداسپور تحصیل شکر گڑھ کے ایک گاؤں دو دھو چک میں ہوا۔میرے پتا جی کا نام پنڈت دھنی رام کروا دادا جی کا نام پنڈت جگت رام تھا۔میرے پتا جی جیوتش کا کام کرتے تھے اور اسی وجہ سے ان کا اثر دور دراز علاقوں تک تھا مجھے انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں گورول کانگڑی ہر یہور میں داخل کرایا۔وہاں پر سنسکرت کے سوا اور کوئی زبان نہیں پڑھائی جاتی تھی۔میں نے بھی وہاں آٹھویں کلاس تک پڑھا۔جولائی ۱۹۲۲ء تک میں گور وکل کے وڈیاں تھی ، اپنے گوروگل گروجی کے ساتھ پہاڑ کی یاترا کیلئے چلے اور بٹالہ میں آریہ سماج کے جلسہ میں شمولیت کے لئے اترے۔بٹالہ کا جلسہ ختم ہونے پر ہم گوروکل کے ودیارتھی اپنے گرو پنڈت بودھ دیو جی کے ساتھ قادیان سالانہ جلسہ پر آئے۔قادیان میں قیام کے دوران ہم اپنے گرو جی کے ساتھ حضرت امام جماعت احمدیہ سے ملاقات کیلئے مسجد میں گئے۔اور ان سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔دوسرے دن پھر آپ سے مسجد میں ہی ملے۔دوران ملاقات میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ میں ایک آسان بات پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ ہمیں اپنے طالب علم دیں جن کے اخراجات پڑھائی اور رہائش اور کھانے وغیرہ کا میں ذمہ دار ہوں گا۔لیکن ہمارے استاد جی نے اس کو منظور نہیں کیا۔میرے اور دوسرے دوست نے ارادہ کیا کہ ہم اس شرط پر عربی پڑھیں گے۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد صرف میں ہی اس شرط پر عربی پڑھنے کے لئے قادیان آیا۔اور آ کر حضرت امام جماعت احمدیہ سے عرض کیا کہ آپ نے ہمارے ایک وفد سے بعض شرائط پر عربی پڑھانے کے لئے کہا۔آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھے یاد ہے۔پھر میں نے عرض کیا کہ میں عربی پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔آپ میری پڑھائی کا انتظام فرماویں۔چنانچہ آپ نے میرے لئے کھانے کا علیحدہ انتظام کیا جس کو ایک ہندو پکا تا تھا۔اور عربی کی پڑھائی کے لئے بھی میرا انتظام کر دیا۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنا فضل و کرم کیا کہ اس نے مجھے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق دی۔فالحمد للہ علی ذالک۔اسلام میں داخل ہونے کے بعد مجھے سب سے پہلے ملکانہ یو۔پی میں تحریک شدھی کی روک تھام کیلئے جانا پڑا۔وہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صداقت میں بے شمار معجزات اور نشانات دکھائے۔چنانچہ ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہمارا ایک وفد فرخ آباد سے نگر یا جواہر جا رہا تھا کیونکہ ہمیں معلوم ہوا تھا