تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 752 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 752

تاریخ احمدیت۔جلد 24 730 سال 1968ء خاکساران کو جا کر نہ جھنجھوڑتا۔پھر دوڑتے ہوئے آئے اور حضور پُرنور کے ہاتھوں کو بوسے دئے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے شروع کئے۔حضور اقدس کے تشریف لے جانے کے بعد خاکسار نے مکرم امینی صاحب کو لکھا کہ چونکہ مسجد احمد یہ ہڈرز فیلڈ میں حضور کے مبارک قدم پڑگئے ہیں اس لئے اس کا نام بدل کر اب مسجد احمد یہ ناصر رکھ لیں۔مرحوم نے فوراً اس نام کو رجسٹر کروالیا اور مسجد کے سامنے خوشنما موٹے حروف میں یہ نام لکھوا بھی لیا۔اس سال کے اوائل میں خاکسار نے یہ فیصلہ کیا کہ لندن کے جلسہ سالانہ میں چونکہ دور دراز کے سارے دوست شامل نہیں ہو سکتے اس لئے حلقہ یارک شائر کی پانچ جماعتیں ہر سال ریجنل کانفرنس منعقد کر لیا کریں۔مکرم امینی صاحب نے فوراً یہ پیشکش کی کہ پہلی کانفرنس ان کے ہاں ہو۔خاکسار نے ان کو لکھا کہ میرا ارادہ ہے کہ لندن سے بھی چالیس افراد پر مشتمل ایک قافلہ اس موقع پر جائے۔مرحوم نے فوراً لکھا کہ سب دوستوں کی رہائش و خوراک کا انتظام ہماری جماعت کرے گی۔اور پھر جس خوش خلقی، اعلیٰ مہمان نوازی اور اسلامی اخوت کا انہوں نے اور ان کی مخلص جماعت نے مظاہرہ کیا وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔بچوں کی تربیت کا تو مرحوم کو گو یا جنون تھا۔ہر شام کام سے تھکے ماندے واپس آتے ہی مسجد میں بچوں کی کلاسز لگواتے اور سب کو دینیات کی تعلیم دیتے۔اپنی جیب سے رقوم خرچ کر کے بچوں میں انعامات تقسیم کرتے تھے۔ان کی اس بے لوث محنت کا ایک نتیجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی دیا کہ ان کے اس سکول میں سولہ غیر از جماعت بچے بھی زیر تعلیم ہیں اور باوجود بعض مخالفین کے اصرار کے ان کے والدین اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ ان کو ہمارے سکول سے اٹھالیا جائے۔دینی غیرت کا یہ عالم تھا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی ایک بھتیجی کو سکول میں ایسا لباس پہننے کو کہا گیا جو غیر اسلامی تھا نیز نارچ کرنے پر مجبور کیا گیا۔مرحوم نے فورا سکول کے محکمہ کو خط لکھا لیکن جب شنوائی نہ ہوئی تو بچیوں کو سکول جانے سے روک دیا۔یہاں چونکہ پندرہ سال تک کے بچوں کی تعلیم لازمی ہے اس لئے چند دن کے بعد محکمہ تعلیم کے لوگ ان کے گھر آئے اور بچیوں کے نہ جانے کی وجہ دریافت کی۔مرحوم نے کہا کہ وہ ہرگز اپنی بچیوں کو ناچ و گانا اور غیر اسلامی لباس نہ پہننے دیں گے خواہ اس کی خاطر ان کی بچیاں بے علم رہ جائیں یا ان کو صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔محکمہ تعلیم کے افسران پر ان کے اس عزم کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے نہ صرف ان کے بچوں کیلئے بلکہ ہڈرزفیلڈ کے علاقہ کے جملہ سکولز میں سرکلر کر دیا کہ مسلمان بچیوں کو شلوار پہننے کی اجازت ہوگی اور ڈانس کلاسز میں ان کا شامل ہونا ضروری نہ ہوگا۔یہ ان کا ایک