تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 740 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 740

تاریخ احمدیت۔جلد 24 718 سال 1968ء محنتی اور تہجد گزار بزرگ تھے۔ایسے باہمت تھے کہ پیرانہ سالی کے باوجود جوانوں کے جوان دکھلائی دیتے تھے۔ابتدائے درویشی سے ہی آپ کا فی معمر تھے اور دنوں مہینوں اور سالوں کے بوجھ نے ان کی کمر کو خمیدہ کر رکھا تھا۔لیکن اس ضعف پیری اور خمید گئی کمر کے باوجود وہ اس قدر با ہمت واقع ہوئے تھے کہ درویشی کے ۲۱ سالہ طویل دور میں اپنے ہاتھ سے اپنا سارا کام کرتے رہے۔اور اپنی روزی خود کماتے رہے۔آپ کو بھینس پالنے کا شوق تھا۔چنانچہ اپنی ساری درویشی میں بھینس پالنے کا شوق اور شغل جاری رکھا۔دن بھر کھر پاہاتھ میں لئے بہشتی مقبرہ کی کسی سڑک پر کھودتے نظر آتے۔یہی وہ سخت قسم کی محنت اور ورزش تھی جو بڑھاپے کے باوجود ان کی صحت کی ضامن بنی رہی اور ایک غیور انسان کی طرح انہیں کسی کا محتاج ہونے نہ دیا۔ے جولائی ۱۹۶۸ء کی ایک دو پہر کو ان کی وفات اس شان سے واقع ہوئی کہ جھلستی دو پہر میں گھاس کھود کر واپس آئے اور اپنے کوارٹر کی ڈیوڑھی میں اسی گھاس کی گٹھڑی سے پیٹھ لگا کر نیم دراز ہو گئے اور اسی حالت میں ان کی روح قفس عنصری سے آزاد ہو کر اپنے مولی کے پاس پہنچ گئی۔اپنا کھانا تو اپنے ہاتھ سے پکاتے ہی تھے لیکن ہمت کی انتہاء یہ تھی کہ اپنے رہائشی مکان میں ہر قسم کی تعمیر کا کام بھی اکیلے اور اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے۔اپنی ضعیفی اور خمیدہ کمر کے باوجود اپنی ڈیوڑھی کی چھت خود اتاری اور خود ہی گارا وغیرہ بنا کر خود ٹائلیں چھت پر پہنچا ئیں اور یوں ہمت مرداں مدد خدا کا مظاہرہ کیا۔بابا جی مرحوم بے حد سادہ اور خاموش طبع درویش تھے۔بڑے ہی صبر وسکون کے ساتھ درویشی کے دور کو گزارا۔سفید ریش بابا جی منحنی قد و قامت اور سرخ و سپید رنگت رکھتے تھے۔مرحوم کے والد کا نام بھولا تھا۔آپ موصی تھے اس لئے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ کے قطعہ نمبر 1 میں ہوئی۔سیدہ بی بی صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ محمد سعید جان صاحب وفات: ۸ جولائی ۱۹۶۸ء آپ حضرت شاہزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل کی سب سے بڑی بہو اور وہ آخری خاتون تھیں جنہوں نے حضرت شہید مرحوم کا پُر نور چہرہ دیکھا اور آپ کی پاکیزہ صحبت میں ایک لمبا عرصہ رہ کر آپ کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔سید ہبتہ اللہ صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ سرائے نورنگ بنوں نے آپ کے وصال پر لکھا: