تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 724
تاریخ احمدیت۔جلد 24 702 سال 1968ء فرماتے۔قبول احمدیت کی برکات اور قبولیت دعا کے واقعات سناتے۔اسی ماحول کی وجہ سے ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی اور صداقتِ احمدیت اور قبولیت دعا پر ایمان مضبوط ہوا اور خلافت احمدیت سے عقیدت اور وابستگی پیدا ہوئی۔الحمدللہ۔اخبار الفضل با قاعدگی سے منگواتے خود بھی پڑھتے دوسروں کو پڑھنے کے لئے دیتے۔آخری عمر میں جب بینائی کمزور ہوگئی تو الفضل کسی سے پڑھوا کر سنتے۔گاؤں کی مسجد کی توسیع ہو رہی تھی۔آپ ریٹائر ہو چکے تھے۔آپ نے اپنے مکان کا چوبارہ گرا کر ساری اینٹیں مسجد کے لئے دے دیں۔جب کبھی گاؤں میں جلسہ کرواتے اس کے بیشتر اخراجات خود برداشت کرتے۔مرکز سے آنے والے علماء کرام اور خدام سلسلہ کی مہمان نوازی کا شرف بھی آپ کے حصہ میں آتا رہا۔والدہ صاحبہ ان کی خدمت میں کوئی کسر اٹھانہ رکھتیں۔بڑی بشاشت سے ان کے آرام اور خوراک کا خیال رکھتی تھیں اور ہم بچوں کو بڑی خوشی ہوتی تھی کہ ہمارے گھر میں قادیان سے بزرگ تشریف لائے ہیں۔خاندان میں آپ سب سے بہتر حالت میں تھے۔سب کی مدد کرتے رہے۔دل میں کسی شخص کے بارے میں کینہ نہ رکھتے تھے۔ادھر ناراض ہوئے اور تھوڑی دیر کے بعد اس کے پاس جا کر نا راضگی دور کر دی۔دشمنی اور انتقام کا جذبہ بالکل ہی نہ تھا۔دشمنوں سے بھی احسان کا سلوک کرتے دیکھا ہے۔بڑے مہمان نواز تھے۔میری والدہ صاحبہ آپ کی عدم موجودگی میں بھی مہمانوں کی بڑی خدمت کرتی تھیں۔اسی وجہ سے ہمارا گھر مہمانوں کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا۔بڑے شریف النفس اور بہادر تھے۔دیانتدار قانون گو تھے۔رمضان المبارک کے روزے آخری عمر تک رکھتے رہے۔آپ روزہ سے تھے۔آپ کا معمول تھا کہ روزہ رکھ کر فجر کی نماز مسجد میں ادا کرتے اور پھر وہیں چٹائی پر لیٹ جاتے۔آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے دسمبر کی سردی تھی ایک پہلو پر لیٹے لیٹے سردی لگ گئی۔اسی کے نتیجہ میں آپ کی وفات ہوئی۔جنازہ ربوہ لایا گیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مسجد مبارک میں نماز جنازہ ادا فرمائی۔اعتکاف اور درس القرآن کی وجہ سے احباب کثرت سے جنازہ میں شریک تھے۔اس کے بعد بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی اور مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے دعا کرائی۔