تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 723
تاریخ احمدیت۔جلد 24 701 سال 1968ء اور جن لوگوں نے آپ کو دکھ دئے ان کے بدانجام کو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۳۴-۱۹۳۲ء میں احرار زور پکڑ رہی تھی۔سید فیض الحسن صاحب آلو مہاری نے تلونڈی آکر سخت بدزبانی کی۔حضرت چوہدری صاحب نے راتوں رات گھڑ، فیروز والا ، گوجرانوالہ ، تر گڑی، گجو چک کے احمدیوں کو پیغام بھیجا کہ وہ صبح نو بجے تلونڈی کھجور والی پہنچ جائیں اور گاؤں میں پیشگی اشتہار لکھ کر لگوا دئے کہ کل فیض الحسن صاحب کے اعتراضوں کا جواب دیا جائے گا۔اپنی مسجد میں جلسہ منعقد کیا گیا۔سب انسپکٹر پولیس جو احرار کے جلسہ میں تھا اس نے گوجرانوالہ سے مزید پولیس منگوالی ہمارے جلسہ میں آ گیا۔ہمارا اپنا انتظام تھا۔مسجد کے اردگرد کے مکانوں کی چھتوں پر پہرے بٹھا دیے اور جلسہ گاہ کے آگے نو جوانوں کر مداد اور سکندر کو پہرہ پر لگا دیا گیا کہ اگر احراری حملہ آور ہوں تو روکیں۔جلسہ صبح ۹ بجے سے ۵ بجے شام تک ہوتا رہا۔دو پہر کے وقت مہمانوں کو کھانا کھلایا جو دوصد تھے۔ہندو، سکھ اور معزز مسلمان جلسہ میں کثرت سے موجود تھے۔ان لوگوں نے اعلانیہ کہا کہ احمدی علماء نے نہایت متانت اور شرافت سے معقول جوابات دیئے ہیں۔لیکن احراری مولویوں نے سوائے بدزبانی کے کچھ نہیں کیا۔اس قسم کے جلسے گاؤں میں کئی دفعہ کروائے گئے۔آپ کو کثرت سے کچی خوا میں آتی تھیں جو پوری ہو کر از دیا دایمان کا موجب بنتی تھیں۔آپ بڑے دعا گو، تہجد گزار بزرگ تھے اور سب کے ہمدرد تھے۔غریب نواز اور صلہ رحمی میں ممتاز۔گاؤں میں آپ کو بڑی عزت سے دیکھا جاتا۔جب آپ نے وفات پائی اور آپ کا جنازہ ربوہ لایا جارہا تھا، تو ٹرک کے پاس آکر ایک اشد دشمن احمدیت نے آپ کے بچوں سے تعزیت کی اور کہا ” اس گاؤں میں ایک ہی مرد با اصول تھا وہ بھی چلا گیا ہے۔جلسہ سالانہ پر باقاعدگی سے جاتے۔تقریروں کے نوٹس لیتے بالخصوص حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے نوٹس لیتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔گاؤں آکر جماعت کو سناتے۔کئی دفعہ اپنے خرچ پر غیر از جماعت دوستوں کو جلسہ سالانہ پر لے جاتے تھے۔جلسہ سالانہ پر جاتے تو جو بھی کتا ہیں اور لٹریچر جماعت کی طرف سے شائع ہوتا ضرور خریدتے اور تبلیغ کی غرض سے لوگوں میں تقسیم کر دیتے۔آپ کی عادت تھی کہ گھر پر ہوتے تو صبح با قاعدگی سے خود بھی تلاوت قرآن مجید کرتے اور بچوں سے بھی تلاوت کرواتے۔والدہ صاحبہ نے کئی بچے بچیوں کو قرآن مجید پڑھایا۔رات کو نماز عشاء کے بعد والد صاحب سارے کنبہ کو جمع کر کے نظمیں سنتے یا سلسلہ کی کتب پڑھواتے۔اور انعامات الہیہ کا ضرور تذکرہ