تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 722 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 722

تاریخ احمدیت۔جلد 24 700 سال 1968ء میں خود ہی ان کے ساتھ بحث کرنے کیلئے تیار ہو گیا۔شرائط طے کیں۔گاؤں کے معتبروں سے دستخط لئے گئے۔رات آٹھ بجے سے ایک بجے تک اندر کے دارہ میں جہاں اب بہاری لال کا مکان ہے مباحثہ ہوا۔عورتوں اور مردوں سے دارہ بھرا ہوا تھا۔اور اردگرد کے مکانوں کی چھتوں پر بھی لوگ جمع تھے۔وفات مسیح اور امکانِ نبوت پر بحث ہوئی اور یہ طے پایا کہ صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر کل رات بحث ہو گی۔غیر احمدی علماء پر ہمارا ایسا رعب طاری ہوا اور اس قدر نمایاں فتح ہوئی کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے تمام غیر احمدی علماء تلونڈی چھوڑ کر چلے گئے۔صبح رمضان علی شاہ صاحب کے مکان پر گاؤں کے ملاں جمع ہوئے۔میں بھی وہاں چلا گیا۔چونکہ بحث امن اور صلح سے ہوئی تھی اس لئے آپس میں طے پایا کہ ایک بڑی بحث کا انتظام کیا جائے جس میں فریقین کے علماء کو دعوت دی جائے اور اکٹھی مہمان نوازی کی جائے اور دو دن میں تمام متنازعہ مسائل پر بحث کی جائے۔گاؤں کی بدقسمتی سے ایک نیلا جبہ پوش لمبی ٹوپی فقیرانہ پہنے ہوئے نور اللہ شاہ جوسید کہلاتا تھا اور سیالکوٹ کا رہنے والا تھا وہاں آ گیا۔اس کو دیکھ کر سب خوشی سے اچھل پڑے۔مجھے وہاں سے اٹھنا پڑا۔جمعہ المبارک تھا نماز جمعہ کے موقعہ پر اس نے سلسلہ احمدیہ کے خلاف سخت بد زبانی کی۔اور رات اسی دارہ میں جہاں ہمیں فتح ملی تھی تقریر کی اور بڑا گند اُچھالا۔میرے پر اصرار مطالبہ کے باوجود بولنے کا موقعہ نہ دیا گیا۔اس کے بعد میں نے قادیان آدمی بھیج کر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے درخواست کی کہ احمدی علماء بھیجیں۔حضور نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کو تلونڈی بھیجا۔وہ تشریف لائے۔غیر احمدی معززین سے وعدہ لیا گیا کہ امن قائم رکھا جائے گا۔اسی دارہ میں رات جلسہ شروع ہوا۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے ابھی پندرہ منٹ تقریر کی تھی کہ اردگرد کے مکانوں سے پتھر برسنے شروع ہو گئے اور غلام نبی نمبر دار صاحب نے للکارا کہ جلسہ بند کر دو ورنہ ہم فساد کریں گے۔پولیس کا انتظام نہ تھا اور رات کا وقت تھا ہم نے جلسہ کی کارروائی روک دی۔اور ایک احمدی دوست حکیم رحیم بخش صاحب ( والد ماجد میاں عطاء اللہ صاحب وکیل) کے مکان پر جلسہ شروع کیا جس میں کافی تعداد میں غیر احمدی شرفاء شامل ہوئے۔“ حضرت چوہدری صاحب کی ان تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے غیر احمد یوں نے افسران بالا سے مل کر گاؤں سے دور تبادلہ کروادیا۔آپ ملازمت کے سلسلہ میں پٹواری تھے یا قانون گو جہاں بھی رہے تبلیغ احمد بیت کرتے رہے اور خدا کے فضل سے آپ کے ذریعہ بہتوں کو احمدیت کی نعمت نصیب ہوئی۔