تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 721 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 721

تاریخ احمدیت۔جلد 24 699 سال 1968ء ریٹائر ہوا۔حضرت چوہدری صاحب کی پہلی شادی ۱۹۰۱ء میں موضع منچر چٹھہ میں ہوئی۔تیرہ چودہ سال تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل سے دعا کروائی۔آپ کے والد صاحب بھی دعا کرتے رہے آپ نے خود بھی بڑی دعا کی۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ ایک لڑکا تین سال کا آپ کی گود میں ہے اور باتیں کرتا ہے۔یہ خواب آپ نے جماعت کے دوستوں کو سنادی۔بیوی ایسی بیمار تھی ڈاکٹروں نے اور دیہاتی دائیوں نے کئی بار ملاحظہ کرانے سے یہ نتیجہ نکالا کہ اس کے ہاں بچہ پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور فضل کا ہاتھ دکھایا اور ظاہری حالات کے خلاف خواب کے ایک سال بعد ماہ اپریل ۱۹۱۴ء میں لڑکا عطا فرمایا جس کا نام بشیر احمد ہے۔بچہ کے پیدا ہونے سے پہلے والدہ دو ماہ بخار سے بیمار رہی اور اس بیماری میں اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔یہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور احمدیت کی صداقت کا نشان بن گیا اور چوہدری صاحب کا دل کامل یقین سے بھر گیا۔یہ بیوی ۱۹۲۰ء میں فوت ہوگئی تھیں۔بیوی کی اس معذوری کی وجہ سے آپ نے غالباً ۱۹۱۸ء جنوری یا فروری میں دوسری شادی مسماة عمر بی بی صاحبہ ساکنہ کوٹ امرسنگھ نزد گوجرانوالہ سے کی اور دسمبر ۱۹۱۸ ء میں آپ کے بطن سے لڑکا پیدا ہوا جس کا نام فضل الہی رکھا گیا۔اس کے علاوہ پانچ لڑکے اور چارلڑکیاں پیدا ہوئیں۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا اور حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اول ہوئے حضرت چوہدری صاحب نے فوراً بیعت کر لی۔آپ فرماتے تھے کہ :۔حضرت مولوی صاحب بڑے سادہ اور نہایت خلیق اور بڑے بارعب تھے۔لمبا قد اور نورانی چہرہ تھا۔داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔پھر ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول کا وصال ہو گیا اور حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحبزادہ ہیں خلیفہ ہوئے۔میں نے اس بناء پر فوراً بیعت کر لی کہ میں نے حضرت مولوی صاحب کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا تھا کہ صاحبزادہ صاحب خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔اور ہاتھ میں سونا تھا“۔غالباً ۱۹۲۰ء میں آپ نے گاؤں میں جلسہ کرایا۔اس کے بعد سید رمضان شاہ صاحب نے غیر احمدی علماء کو تلونڈی کھجور والی بلوالیا جو تعداد میں سات تھے۔ایک ان میں وکیل تھا۔غیر احمدی پبلک نے احمد یہ مسجد میں آکر مجبور کیا کہ ان علماء سے بحث کرو۔جماعت کے پاس کوئی عالم نہ تھا۔وقت تنگ تھا۔قادیان سے منگوا نا نا ممکن تھا۔حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں:۔