تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 717 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 717

تاریخ احمدیت۔جلد 24 695 سال 1968ء احمدی دوست شیر محمد صاحب جو نواں شہر تک اپنا تانگہ چلایا کرتے تھے ان کے تانگہ میں سوار ہوکر کا ٹھگڑھ کو روانہ ہو گئے اور چند آدمی بنگہ سے بھی آپکے ہمراہ چل پڑے۔راستے میں حضرت حاجی غلام احمد صاحب بھی آپ کو مل گئے۔راستہ میں چوہدری غلام قادر صاحب رئیس آف لنگڑ وعہ بھی کسی ذریعہ سے اطلاع پاکر مل گئے۔راستہ میں ہی ایک جاڈلہ قصبہ (حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب کا قصبہ ) سے حاجی غلام احمد صاحب نے اپنے رشتہ داروں سے گھوڑی لے لی۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب گھوڑی پر سوار ہو کر اکیلے ہی کا ٹھگڑھ کا راستہ پوچھ کر کاٹھگڑھ پہنچ گئے۔گاؤں میں آکر دریافت کیا کہ عبدالسلام صاحب کا مکان کہاں ہے؟ پوچھتے ہوئے جہاں ہماری حویلی تھی اور ہمارے مہمان ٹھہر ا کرتے تھے گھوڑی باندھ کر اکیلے ہی مسجد احمد یہ جو بہت اونچی جگہ پر واقع تھی ،پہنچ گئے۔نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ہمارے چچا زاد بھائی بابو عبدالحئی خانصاحب جو ان دنوں اپنی ملازمت سے رخصت پر آئے ہوئے تھے بے اختیار بول اٹھے کہ عبدالسلام ! میاں صاحب آگئے ہیں۔پھر میں اور میرے بھائی عبدالسلام صاحب، عبدالحئی خانصاحب اور دیگر افراد آپکے گرد جمع ہو گئے۔( آپ کو ساتھ لیکر اپنے پختہ مکان میں جہاں صرف ابھی دو کمرے ہی تیار ہوئے تھے، آئے۔جب وہاں آئے تو ہمارے والد چوہدری محمد حسین صاحب اور ایک رشتہ دار احمدی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔حضور کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔کھڑے ہو گئے۔حضور سے مصافحہ کیا۔کچھ دیر کے بعد حضرت میر محمد الحق صاحب، حاجی غلام احمد صاحب، چوہدری غلام قادر صاحب آف لنگڑ وعہ و دیگر افراد قریبا پندرہ کس مع بھائی شیر محمد تانگہ والے آگئے۔۱۸ دسمبر ۱۹۰۸ء کو جہاں حضور کی تقریر کے لئے دریاں وغیرہ بچھائی گئیں تھیں اور اہل کا ٹھگڑھ کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔تقریر کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں بہت ہندورؤساء دوکاندار اور مسلمان غیر از جماعت اور احمدی احباب کا ایک خاص مجمع ہو گیا۔حضور نے الحمد شریف کے بعد فرمایا کہ ہر ایک چیز جس کو ہم چھو سکتے ہیں یا ہر ایک چیز جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے یا ہر ایک چیز جس کو ہمارے ناک سونگھ سکتے ہیں وہ تمام ایک صانع خدا کی ہستی کا ثبوت دے رہے ہیں۔اس سے آگے کے الفاظ یاد نہیں۔اخویم چوہدری عبدالحئی خان صاحب نے تقریرلکھنی شروع کی اور جلد ہی بند کر کے بیٹھ گئے۔میں نے کہا آپ لکھتے کیوں نہیں؟ کہنے لگے کہ تقریر سننے میں زیادہ لذت آتی ہے۔اس جلسہ میں چوہدری غلام احمد صاحب چیف نمبر دار رئیس جو ہمارے تایا بھی تھے ، موجود تھے۔اسی طرح میرے والد محمد حسین