تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 718 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 718

تاریخ احمدیت۔جلد 24 696 سال 1968ء صاحب بھی تھے۔جلسہ خوب با رونق رہا۔پھر ہم واپس اپنے مکان میں آگئے۔جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔اس دروازہ پر اخویم مولوی عبدالسلام صاحب نے لکھا ہوا تھا ” بیت الحمود “ گویا اس کمرہ کا ( نام ) ہی بیت محمود تھا اور اندر دیوار پر لکھا ہوا تھا۔۱۸،۱۷دسمبر ۱۹۰۸ء کو حضرت مرزا محمود احمد صاحب اس مکان میں رونق افروز ہوئے۔یہ الفاظ جب تک وہاں رہے بدستور لکھے رہے۔۱۹ دسمبر ۱۹۰۸ء کی صبح کو نماز فجر کے بعد جماعت کا ٹھگڑھ کی خواہش کے مطابق حضور مع میر اسحق صاحب و دیگر افراد جماعت جن کی تعداد میں پچیس کے قریب ہوگی کا ٹھگڑھ کے ہر ایک احمدی کے گھر 65 تشریف لے گئے۔“ حضرت خلیفہ المسیح الثانی جب مسند خلافت پر متمکن ہو گئے تو آپ کا جو بھی ارشاد پہنچتا فورا اس پر عمل کرتے اور تمام جماعت کو اس پر عمل کرانے کی کوشش کرتے۔باوجود اس کے کہ آپ کی صحت کمزور تھی آپ قرآن مجید پڑھانے میں بہت کوشش فرماتے۔احمد یہ جماعت چک ۴۹۷ کے پریذیڈنٹ بھی تھے اس لئے اس ذمہ واری کے احساس سے بہت فکر مند ہوتے تھے۔آپ نے بیسیوں بچوں کو قرآن مجید پڑھایا۔آپ کے دل میں سلسلہ کا بہت درد تھا۔جو بھی مرکز کی طرف سے جاتا اس کے ساتھ نہایت اکرام کے ساتھ پیش آتے۔نہایت کھلے دل سے مہمان نوازی کے فرائض ادا کرتے اور مہمان کی خاطر اپنی کسی تکلیف کی پروانہ کرتے۔انتخاب خلافت کمیٹی کے ممبر کے طور پر آپ کا نام تاریخ احمدیت جلد ۱۹صفحہ ۱۹۲ پر نمبر ۲۵ کے تحت درج ہے۔آپ جماعت احمدیہ کا ٹھ گڑھ کے سالہا سال تک امیر جماعت رہے۔قیام پاکستان کے بعد آپ نے چک ۴۹۷ ج۔بضلع جھنگ میں بود و باش اختیار کی اور یہیں آپ نے وفات پائی۔آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی زیر ہدایت مورخہ ۱۲ نومبر ۱۹۶۸ء کومحترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے جنازہ پڑھایا۔جس کے بعد قطعۂ صحابہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔اولاد آپ نے تین شادیاں کیں۔