تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 716 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 716

تاریخ احمدیت۔جلد 24 694 سال 1968ء والے تھے۔باوجود صاحب جائیداد اور راجپوت زمیندار ہونے کے جن کو اپنی قوم کے وقار کا بڑا خیال ہوتا ہے آپ۔پ کے اندر عاجزی و انکساری اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔احمدیت کا ایک کامل نمونہ تھے۔آپ کے علاقہ کے مسلمان ہندوؤں سے بہت دبے ہوئے تھے اور تعلیم میں بہت ہی پیچھے تھے۔مسلمانوں کی اس حالت کو دیکھ کر مرحوم نے اپنے خرچ پر اپنے گاؤں کا ٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور میں پرائمری سکول جاری کیا جس کو بعد میں ترقی دے کر ہائی سکول بنادیا گیا۔اس کے تمام اخراجات خود برداشت کئے۔پارٹیشن کے وقت تک سکول نہایت کامیابی سے چلتا رہا اور تمام گرد و پیش کے علاقہ کے مسلمانوں کے بچے جو ہندوؤں کے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اس سکول میں تعلیم حاصل کرنے لگے جس سے مسلمانوں کو بہت دینی و دنیوی فائدہ پہنچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد ان کے اندر خاص تغییر پیدا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت مصلح موعود اور آپ کے صاحبزادگان و دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت اور عقیدت تھی۔جس کا اندازہ آپ کے ایک انٹرویو سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے نواسے مکرم مظفر احمد صاحب کو دیا جس میں آپ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ امسح الاول کی خلافت کے پہلے سال میں مولوی عبد السلام مرحوم نے جو میرے حقیقی بھائی تھے، حضرت خلیفہ اسی الاول کے شاگرد تھے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے کلاس فیلو بھی تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی خدمت میں درخواست گزاری تھی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو ہمارے ہاں آنے کی اجازت فرمائیں اور ساتھ میر محمد اسحاق صاحب بھی آئیں کیونکہ افراد جماعت کا ٹھگڑھ کی خواہش ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ہمارے گھروں میں پاؤں رکھیں۔تا ہمارے گھروں میں برکت ہو جائے۔حضور نے منظور فرمایا۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور صاحبزادہ صاحب کو اجازت دے دی اور فرمایا جانا چاہئیے مخلص جماعت ہے چونکہ جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء کی تاریخیں قریب تھیں اور کا ٹھگڑھ دور تھا۔حضرت حاجی غلام احمد صاحب آف کر یام کو اطلاع دے دی کہ صاحبزادگان کا ٹھگڑھ جانے کے لئے آرہے ہیں آپ انتظام کریں۔اس وقت ہمارے نزدیک پھگواڑہ اسٹیشن ہی تھا۔الغرض حضرت صاحبزادہ صاحب اور حضرت میر اسحاق صاحب ۱۶ دسمبر ۱۹۰۸ء کو بٹالہ اسٹیشن سے سوار ہو کر امرتسر سے گاڑی بدل کر پھگواڑہ اسٹیشن پر اتر کر تانگہ پر سوار ہوکر بنگہ ضلع جالندھر جہاں ہماری جماعت تھی ، رات کو آگئے۔رات وہیں قیام کیا اور وہاں سے ایک مخلص