تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 713
تاریخ احمدیت۔جلد 24 وو۔محمود 691 سال 1968ء ۱۹۱۳ء میں تہجد کے وقت تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ظاہر فرمایا کہ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا میں نشان ہیں۔وہ یہ کہ اس میں تاریخ ہے۔میں نے اعداد اسی وقت نکالے۔وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدُ حکم کو نکال کر باقی میں ۱۹۱۴ء تاریخ نکلی۔مجھے گھبراہٹ ہوئی کہ سن عیسوی کیوں ہے؟ فورا دل میں ڈالا گیا کہ محمود تو دنیا میں سینکڑوں ہوں گے مگر جس محمود کے وجود میں رسول کریم ﷺ کھڑے ہوں گے وہ عیسی کا لخت جگر ہے۔سن عیسوی کے تعلق کے یہ معنی ہیں۔میں نے اسی وقت کا غذ اٹھا کر حضرت فضل عمر کی خدمت میں یہ لکھ دیا۔میں ظاہر ا اس کے معنی یہ سمجھا کہ اخبار الفضل کے ذریعہ چونکہ حضرت میاں صاحب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور سوانح لکھنی شروع کی ہے اس طرح سے آپ کے وجود میں یعنی رسول کریم ﷺ اس وجود میں ظاہر ہوں 61 صلى الله گے۔۱۹۱۴ء میں خلافت ہونے پر یہ راز کھلا کہ یہ مطلب تھا۔حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی گرانقدر خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔۱۹۱۵ء میں آپ نے حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چھبیس بلند پایہ صحابہ کرام کی ایمان افروز روایات اپنے الفاظ میں قلمبند کیں جو آپ نے دسمبر ۱۹۶۲ء میں سیرتِ احمد کے نام سے شائع کر دیں۔آپ ۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۷ء تک حضرت مصلح موعود کی اراضی سندھ کے مینیجر کے فرائض انجام دیتے رہے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی لمصلح الموعود نے فرمایا:۔ناصر آباد میں میری زمینوں پر ایک دوست قدرت اللہ صاحب سنوری مینیجر تھے۔ایک دفعہ ہم زمین دیکھنے گئے۔چونکہ سندھ میں صدرانجمن احمدیہ کی زمین تھی اس لئے میرے ساتھ چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے اور مرزا بشیر احمد صاحب بھی تھے۔وہاں ان دنوں گھوڑے کم ملتے تھے۔انہوں نے میرے لئے گھوڑا کسی سے مانگ لیا تھا اور دوسرے ساتھی میرے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔منشی قدرت اللہ صاحب نے باتوں باتوں میں بتایا کہ انہیں اس قدرآمد کی امید ہے۔اس پر چوہدری صاحب اور مرزا بشیر احمد صاحب نے اس خیال سے کہ منشی قدرت اللہ صاحب کو ان باتوں کا علم ہو کر تکلیف نہ ہو آپس میں انگریزی میں باتیں کرنی شروع