تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 714 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 714

تاریخ احمدیت۔جلد 24 692 سال 1968ء کر دیں اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ شخص گپ ہانک رہا ہے۔اتنی فصل کبھی نہیں ہو سکتی۔ان کا یہ خیال تھا کہ منشی قدرت اللہ صاحب سنوری انگریزی نہیں جانتے مگر دراصل وہ اتنی انگریزی جانتے تھے کہ ان کی باتوں کو خوب سمجھ سکیں۔مگر وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔جب انہوں نے باتیں ختم کر لیں تو منشی صاحب کہنے لگے۔آپ لوگ خواہ کچھ خیال کریں دیکھ لینا میری فصل اس سے بھی زیادہ نکلے گی جو میں نے بتائی ہے۔آپ کو کیا علم ہے میں نے ہر کھیت کے کونوں پر سجدے کئے ہوئے ہیں اور یہ فصل میری محنت کے نتیجہ میں نہیں بلکہ میرے سجدوں کی وجہ سے ہوگی۔میں نے ہر کو نہ پر دو دو رکعت نماز پڑھی ہے اور چار چار سجدے کئے ہیں۔اس پر ان دونوں کا رنگ فق ہو گیا کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پتہ نہیں لگ سکتا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔صدر انجمن احمدیہ کو اس سال گھاٹا رہا لیکن منشی قدرت اللہ صاحب نے کئی ہزار روپیہ مجھے بھجوایا۔میں نے سمجھا کہ یہ صدر انجمن کا روپیہ ہے جو غلطی سے میرے نام آ گیا ہے لیکن دیکھا تو معلوم ہوا یہ میرا ہی روپیہ ہے۔ساتھ ہی منشی قدرت اللہ صاحب نے لکھا کہ میرا اندازہ ہے کہ اتنی ہی آمد اور ہو جائے گی۔میں نے جو پیداوار ابھی تک اٹھائی ہے وہ میں نے ایک ہندو تاجر کے پاس بھیج دی ہے۔آٹھ ہزار روپیہ میں بطور پیشگی لے کر بھیج رہا ہوں اور میں ابھی اور رو پیدا ارسال کروں گا۔حالانکہ میری زمین صدرانجمن احمدیہ کی نسبت بہت تھوڑی تھی لیکن اس سال صدر انجمن احمد یہ کوگھاتا رہا لیکن مجھے نفع آیا۔یہ محض منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کے سجدوں کی برکت تھی۔اپریل ۱۹۶۲ء میں آپ نے اپنے خرچ پر مشرقی پاکستان کی مخلص جماعتوں کا ایک ماہ تک دورہ کیا۔آپ کے نیک نمونہ اور پاکیزہ روح پرور باتیں ان جماعتوں میں ازدیاد ایمان اور ترقی کا باعث ہوئیں اسی دوران آپ کو بذریعہ ریڈیو ٹیلی گرام یہ پیغام پہنچا کہ آپ کی بیوی سخت بیمار ہے اور حالت تشویشناک ہے یہ اطلاع ملتے ہی فرمایا میں مرکز کے حکم کے بغیر یہاں سے ایک قدم بھی ہل نہیں سکتا ہو سکتا ہے کہ میں بیوی کو دیکھنے کے لئے واپس چلا جاؤں اور مرکز کی حکم عدولی کے باعث خدا تعالیٰ جواب طلبی کر لے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرکز کے حکم کی فرمانبرداری بھی کروں اور بیوی بھی بچ جائے۔62