تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 712
تاریخ احمدیت۔جلد 24 690 سال 1968ء ہمشیرہ کی شادی کے موقعہ پر جبکہ نکاح خواں مولوی سمیت تمام انتظامات ہو چکے تھے، بچی کے والد نے کہا کہ میں اپنی بچی کا نکاح جسم نیکی و طہارت چوہدری غلام حسین صاحب سے پڑھاؤں گا۔اگر چہ وہ غیر احمدی تھے مگر آپ کی نیکی نے ان کو مجبور کر دیا کہ آپ سے اپنی بچی کا نکاح پڑھوائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خاندان سے خاص محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔اپنے آخری ایام میں بھی جبکہ آپ بیحد کمزور ہو گئے تھے الفضل سے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی صحت کے متعلق تازہ اطلاع ضر ور دریافت فرماتے۔اولاد حضرت چوہدری غلام حسین صاحب نے تین شادیاں کیں تھیں۔جن میں سے دو کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔جن کے اسماء درج ذیل ہیں۔اہلیہ اول جنت بی بی صاحبہ جن سے آپ کے درج ذیل بچے تھے۔۱۔مکرم مولوی محمد یار عارف صاحب ( والد مکرم طاہر عارف صاحب ریٹائر ڈ انسپکٹر جنرل پولیس) ۲۔امۃ الحفیظ صاحبہ ۳۔رحمت بی بی صاحبہ ۴۔امۃ العزیز صاحبہ اہلیہ دوم محترمہ حسین بی بی صاحبہ جن سے آپ کے درج ذیل 9 بچے تھے۔۱۔عبدالرب صاحب ۲۔عبدالخالق صاحب ۳ - محمود احمد صاحب ( ان کے بیٹے مکرم عابد محمود صاحب مربی سلسلہ ہیں) ۴۔صدیق احمد صاحب ۵۔عبدالواسع صاحب ۶۔منور احمد صاحب ۷۔زینب بیگم صاحبه ۸ - منظور بیگم صاحبه ۹- رشید بیگم صاحبه الحاج حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ولادت: قریباً ۱۸۸۲ء دستی بیعت: ۱۸۹۸ء وفات: ۱۹ نومبر ۱۹۶۸ء حضرت مولوی صاحب سنور کے قدیم مخلص اور فدائی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا شمار سلسلہ احمدیہ کے ان بزرگوں میں ہوتا ہے جو صاحب کشف والہام، خدمت دین کے والہ وشیدا اور خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضور سے براہ راست فیضان اور برکت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ بہت سے دوسرے احمدیوں کی طرح آپ پر بھی خلافت ثانیہ کے مظہر کے بارہ میں قبل از وقت جناب الہی کی طرف سے انکشاف کیا گیا۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:۔