تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 710
تاریخ احمدیت۔جلد 24 688 سال 1968ء دوسری بیوی مکر مہ رحمت بی بی صاحبہ سعد اللہ پور ضلع گجرات کی رہنے والی تھیں۔آپ سے درج ذیل اولا د ہوئی۔۔مکرم حمید احمد صاحب ۲۔زینب بی بی صاحبہ زوجہ ملک عطاء اللہ صاحب 54 حضرت میاں علی گوہر صاحب ولادت : ۱۸۹۰ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : ۴ ستمبر ۱۹۶۸ء آپ ۱۹۰۴ ء میں دستی بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۸۰ سال تھی۔آپ کے چارٹر کے اور پانچ لڑکیاں تھیں۔آپ کی رہائش ربوہ میں تھی اور یہیں پر وفات پائی۔۵ ستمبر کو آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ نمبر ۸ میں عمل میں آئی۔اولاد ا محمد علی صاحب ۲۔احمد علی صاحب ۳۔سلطان احمد صاحب ۴۔سعادت علی صاحب بیٹیاں: ۱۔آمنہ بی بی صاحبہ زوجہ شیر علی صاحب۔۲۔امتہ اللہ بیگم صاحبہ زوجہ ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب ابن حضرت مولوی رحیم بخش صاحب۔۳۔امۃ الرشید صاحبہ زوجہ محمد عالم صاحب باڈی گارڈ حضرت خلیفة المسیح ۴۔امۃ الرحیم صاحبہ زوجہ نیاز علی صاحب۔۵۔امتہ النصیر صاحبہ حضرت شیخ محمد بخش صاحب 55 وفات: ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۸ء ولادت: قریباً ۱۸۸۰ بیعت : ۱۸۹۵ء آپ دھرم کوٹ بگہ گورداسپور کے رہنے والے تھے۔آپ کو ۱۶، ۷ اسال کی عمر میں حضرت مولوی فتح دین صاحب کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کا علم ہوا۔جس پر آپ نے قادیان جا کر دستی بیعت کی۔آپ اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت و ملاقات کے لئے قادیان جایا کرتے تھے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر قادیان حاضر ہوئے اور آپ نے بتایا کہ تدفین سے پہلے حضور کا چہرہ مبارک دیکھنے کا موقع بھی ملاس چرہ پر نور اورسورج کی طرح چمک رہا تھا۔آپ حضرت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نماز جنازہ و تدفین میں شامل ہوئے۔فہرست انتخاب خلافت جماعت احمدیہ میں بھی آپ کا نام شامل تھا۔۱۹۶۸ء کی مجلس مشاورت میں بھی آپ کو بطور صحابی مدعو کیا گیا۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔