تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 709
تاریخ احمدیت۔جلد 24 687 سال 1968ء آپ کے والد صاحب بہت ہی مخلص احمدی تھے۔میں نے ان کا جنازہ بھی پڑھایا ہے آپ کو چاہئے کہ ان کے نقش قدم پر چلیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ بہت ہی مخلص کے الفاظ حضور نے تین دفعہ دہرائے تھے۔گورداسپور میں ہم پانچ روز ر ہے اور جب حضور واپس تشریف لائے تو ہم بھی آپ کے ہمراہ قادیان آگئے۔“ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۶۷ء میں دورہ یورپ سے قبل جماعت کے بعض بزرگان کو استخارہ کرنے کے لئے فرمایا۔ان بزرگان میں حضرت حکیم محمد اسماعیل صاحب بھی شامل تھے۔آپ کے بیٹے ملک حمید احمد صاحب کا بیان ہے کہ حضرت مصلح موعود نے ایک مرتبہ آپ سے تین جگہوں کا ذکر کیا جن میں کھیوڑہ کا بھی ذکر کیا اور فرمایا کہ ایسی جگہوں پر ہفتہ دس دن قیام کیا کریں چنانچہ آپ حضور کے ارشاد کی تکمیل میں اپنے ایک احمدی دوست کے ہمراہ کھیوڑہ گئے۔وہاں پر ایک مخلص احمدی دوست مکرم ملک ہاشم صاحب کے مہمان ہوئے اور ایک ماہ تک قیام کر کے تربیت اور تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔آپ اچھے طبیب تھے۔مشہور تھا کہ آپ سانپ ڈسنے کا کامیاب علاج کرتے تھے۔پیر کوٹ اول کی جماعت آپ کی ہی کوشش کے نتیجہ میں قائم ہوئی۔اس جماعت کے بزرگ احمدیت قبول کرنے سے پہلے اہل حدیث مسلک کے تھے۔اس لئے شرک اور بدعات ورسوم سے بہت پر ہیز کرتے۔آپ بھی اس عقیدہ کے پابند تھے۔آپ احمدی نو جوانوں کی تربیت کا بہت خیال رکھتے۔بجائے سختی کے آپ بڑی محبت اور شفقت سے انہیں سمجھاتے۔جب حکیم صاحب گاؤں میں ہوتے اور خطبہ جمعہ دیتے جوا کثر حضرت مصلح موعود کا ارشاد فرمودہ ہوتا تو اکثر آپ پر رقت طاری ہو جاتی۔حضرت حکیم صاحب نے ۳۱ راگست ۱۹۶۸ء کو وفات پائی اور پیر کوٹ ثانی مقامی قبرستان میں دفن ہوئے۔اولاد حضرت حکیم صاحب نے دو شادیاں کیں۔پہلی بیوی سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔پہلے بیٹے محمد خاں صاحب تعلیم کے دوران قادیان میں فوت ہو گئے۔دوسرے بیٹے احمد خاں صاحب گاؤں میں وفات پاگئے تھے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی چھوٹی بیٹی احمد خاں صاحب کے عقد میں آئیں۔