تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 711 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 711

تاریخ احمدیت۔جلد 24 اولاد 689 سال 1968ء ا۔عطاء اللہ صاحب ۲۔رحمت اللہ صاحب : ان کے ایک بیٹے نعیم اللہ صاحب آجکل فضل ہسپتال میں فارمیسی کا کام کر رہے ہیں۔۳۔اللہ رکھی صاحبہ ۴۔ہاجرہ صاحبہ ۵۔حضرت چوہدری غلام حسین صاحب آف سرگودھا ولادت: ۱۸۷۸ء بیعت : ۱۹۰۵ء 56 وفات: ۵ نومبر ۱۹۶۸ء عمر ۱۹۰۵ء میں آپ نے تحریری بیعت کی تحریری بیعت کے پندرہ دن بعد گاؤں میں طاعون پھوٹ نکلی۔بیوی اور بیٹے محمد یار کو بخار اور پھنسیاں نکل آئیں۔لوگوں نے مسجد سے نکال دیا کہ تم نے بیعت کی ہے اس لئے سب سے پہلے تمہاری بیوی اور بچے کو طاعون ہوئی ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام کو دعا کا خط لکھا۔آپ علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ آپ ان کو ہوادار جگہ میں رکھیں اور استغفار کریں اللہ تعالیٰ آ کی بیوی اور بچہ دونوں کو انشاء اللہ تندرست کر دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور دونوں صحت یاب ہو گئے لیکن اعتراض کرنے والوں پر اس قدر تباہی آئی کہ چک میں، ۷ آدمی طاعون سے تباہ ہوئے اور دو دو آدمی ایک ایک قبر میں دفنائے گئے۔اس نشان کے بعد پانچ گھروں نے بیعت کی اور ان سب گھروں میں بیعت سے پہلے طاعون سے وفا تیں ہو چکی تھیں اور بیعت ایک سال کے اندراندر کی۔آپ بیان کرتے ہیں کہ : ۱۹۰۷ء میں میں قادیان گیا۔میرا ارادہ تھا کہ حضور کی دستی بیعت بھی کر لوں۔اس وقت حضور کا لنگر میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں تھا اور مبارک احمد کے بیمار ہونے کی وجہ سے تین دن تک حضرت صاحب باہر تشریف نہ لا سکے اور ہماری بیعت نہ ہوسکی۔ہم نے عرض کی کہ ہم کو دو تین دن ہو گئے ہیں حضور بیعت قبول فرمائیں۔چنانچہ حضور نے دوسری چھت پر بلایا اور دو چار پائیاں پڑی تھیں۔ایک تو اچھا پلنگ تھا لیکن دوسری چارپائی بہت چھوٹی سی نحیف سی تھی۔جب حضور تشریف لائے تو ہم تین آدمیوں کو تو پلنگ پر بٹھایا لیکن خود اس کمزور چار پائی پر بیٹھ گئے اور بیعت لی۔“ جماعت احمد یہ چک نمبر ۹۸ شمالی سرگودھا آپ کی قابل قدر تبلیغی مساعی سے قائم ہوئی۔آپ یہاں آباد ہونے والے اولین گھرانوں میں سے تھے۔جانفشانی اور سچی لگن سے اشاعت احمدیت کے لئے آپ کی کاوشوں کی بدولت تقریباً نصف گاؤں احمدی ہو گیا۔غیر احمدی دوست بھی آپ کی حسنِ سیرت، عالی ظرفی ، حلم اور احسان کے مداح تھے۔بنیادی جمہوریت کے ممبر ایک غیر احمدی دوست کی 58