تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 686 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 686

تاریخ احمدیت۔جلد 24 664 سال 1968ء فرماتے ہیں کہ موضع نون ضلع گجرات کے ایک شریف اور پابند صوم وصلوٰۃ گھرانے میں پیدا ہوئے۔تین بھائیوں میں سے آپ بڑے تھے۔والد گاؤں میں پٹواری تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ ان کا بڑا فرزند بھی ضروری تعلیم حاصل کر کے اسی محکمہ میں ملازمت اختیار کرے اس زمانہ میں مساجد میں حاصل کردہ ابتدائی دینی تعلیم کو ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔دنیاوی تعلیم کی طرف رجحان مسلمانوں میں نہ ہونے کے برابر تھا۔چنانچہ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد آپ نے گاؤں میں ہی پرائمری تک تعلیم حاصل کی اور مزید تعلیم کے لئے گجرات جانا پڑا۔جب مڈل کر چکے تو اب والدین کے ارادے کچھ اور تھے لیکن آپ کو مزید تعلیم کے حصول کا بہت شوق تھا۔آخر یہی شوق انہیں چودہ پندرہ سال کی عمر میں ریاست بھوپال میں لے گیا۔وہاں ایک سال کے لگ بھگ قیام کیا۔اسی دوران آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بارہ میں حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری کی وساطت سے آگاہی حاصل ہوئی۔مذہب سے آپ کو فطری لگاؤ تھا۔دینی علم کی طرف آپ شروع سے ہی رغبت رکھتے تھے۔اسی علمی ذوق و شوق کے باعث آپ ہمیشہ جرات و کاوش سے علمی تشنگی بجھانے اور تلاش حق کی جستجو پر ہر آن مائل رہتے تھے۔۱۹۰۰ ء کے اواخر میں آپ بھوپال سے لاہور پہنچے اور ایک مسجد میں قیام کیا۔لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سخت مخالفت تھی۔آپ کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خلاف مذموم حرکات اور دشنام طرازیاں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا لیکن آپ اس وقت تک تسلی نہیں پاسکتے تھے جب تک کہ خود مطالعہ کر کے حقیقت حال معلوم نہ کر لیں۔چنانچہ آپ قادیان پہنچے مسجد میں حضور علیہ السلام کے دیدار سے شرف یاب ہوئے۔مجلس علم و عرفان میں بیٹھ کر حضور علیہ السلام کے ارشادات عالیہ سے مستفیض ہوئے اور جلد ہی حق و صداقت آپ پر ظاہر ہو گئی۔آپ نے ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت کا اعزاز پایا۔حصول علم کا شوق اتنا تھا کہ آپ واپس اپنے وطن صرف اس خدشہ کے باعث نہ گئے کہ کہیں ان کے والد انہیں و ہیں نہ روک لیں اپنی تعلیم قادیان میں جاری رکھی اور انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا۔تب آپ کو مدرسہ احمدیہ میں بطور عربی استاد کے خدمت کا موقع ملا۔شروع ہی سے آپ اپنے فرائض انتہائی احتیاط اور احساس ذمہ داری سے ادا کرنے کے عادی تھے۔طالب علمی کے زمانہ ہی سے آپ مختلف النوع علمی مشاغل میں مصروف و منہمک رہتے۔جب کبھی سلسلہ کے بزرگ مناظروں اور مباحثوں میں شریک ہوتے آپ بھی بڑے شوق سے حوالہ کی کتب باندھ کر ان کے ہمراہ ہو لیتے اور مناظروں کے دوران