تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 687
تاریخ احمدیت۔جلد 24 665 سال 1968ء مختلف کتب میں سے ضروری حوالہ جات ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے۔با موقع و بر محل ضروری حوالے نکال کر فریق مخالف کو لاجواب کرنے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ذہن بہت باریک بین اور یادداشت بہت تیز تھی۔بعض دفعہ تو مناظروں میں حصہ لینے والے بزرگ بھی حیرت کا اظہار کرتے کہ کس طرح آپ بحث کا رخ دیکھ کر از خود موقع محل کے مطابق موزوں حوالے سامنے رکھ دیتے تھے۔ستمبر ۱۹۰۷ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔واقف زندگی کے لئے ایک شرط یہ تھی کہ کوئی معاوضہ نہ لوں گا چاہے مجھے درختوں کے پتے کھا کر گزارا کرنا پڑے میں گزارہ کروں گا اور تبلیغ کروں گا۔اس عہد آفرین تحریک پر لبیک کہنے والے اولین گروہ میں آپ بھی شامل تھے۔وقف کے لئے پیش کرنے والوں کی ابتدائی فہرست جو حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں پیش کی گئی اس میں آپ کا گیارہواں نمبر تھا۔مدرسہ احمدیہ قادیان میں دو اڑھائی سال آپ تعلیم و تدریس کی خدمت سے منسلک رہے اس کے بعد لاہور جا کر قانون کا امتحان پاس کرنے کی غرض سے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔خدا تعالیٰ نے کچھ وظیفہ کا بھی انتظام کر دیا۔قانون کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ نے پریکٹس شروع کی اور ابتداء میں ہی اچھی خاصی کامیابی حاصل ہوئی۔مقدمات کی پیروی اور قانونی امور میں آپ بہت احتیاط اور انہماک کے ساتھ پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض تقویٰ کو ہمیشہ مد نظر رکھ کر سرانجام دیتے۔غلط مقدمات اور جھوٹی گواہیوں کا تصور بھی آپ اپنے ذہن میں نہ لاتے تھے۔اس سلسلہ میں آپ کے اخلاق و کردار اور پیشہ وارانہ قابلیت پر آپ کے بعض بزرگ رفقائے کار کے الفضل میں مضامین شائع ہو چکے ہیں۔۱۹۱۲ء کے لگ بھگ آپ بہت بیمار ہو گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الا ول آپ کو بہت عزیز رکھتے تھے۔جب آپ کو اس بیماری کا علم ہوا تو مسجد میں آپ کے لئے دعا کی خاص تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک کام کا آدمی ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے۔دوست ان کی صحت کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی رنگ میں صحت عطا فرمائی۔خلافت ثانیہ کا بابرکت دور شروع ہوا تو حضرت مصلح موعود نے ۱۹۱۶ء میں آپ کو قادیان میں طلب فرمایا۔آپ فوراً اپنی پریکٹس کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہ کر قادیان آگئے اور پھر عمر بھر خدمت دین میں ہمہ تن مصروف رہے۔یکم جنوری ۱۹۱۹ء کو جب صدر انجمن احمد یہ میں نظارتوں کا قیام عمل میں آیا تو