تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 52 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 52

تاریخ احمدیت۔جلد 24 52 سال 1967ء اپنے فضل سے غلبہ اسلام کی عظیم الشان بشارتوں کو پورا فرمائے۔تاہم اسلام کو اپنی زندگیوں میں 47- پورے کرہ ارض پر غالب آتا دیکھ لیں۔مورخہا انومبر ۱۹۶۷ء کو جو علمی تقاریر کا اجلاس منعقد ہوا اس میں چونکہ حضور انور علالت طبع کے باعث تشریف نہ لا سکے۔اس لیے صدارت کے فرائض محترم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ نے سر انجام دیئے۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا جو کہ مکرم حافظ ڈاکٹر مسعود احمد صاحب سرگودہانے کی۔بعد ازاں مکرم مولوی قمر الدین صاحب مولوی فاضل نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی منظوم کلام پڑھا۔پھر محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائل پوری نے ”حضرت خلیفۃ ای الاول کا مقام فروتی اور انکساری میں" کے موضوع پر خطاب فرمایا۔محترم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل نے اپنی تقریر میں حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمات دینیہ اور ان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اظہار خوشنودی کو واضح فرمایا۔آخر میں مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ” مقام خلافت حضرت خلیفہ اول کی نظر میں“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔بعد ازاں صاحب صدر نے مختصر صدارتی خطاب کے بعد اجتماعی دعا کرائی۔سواسات بجے یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا طلباء جامعہ احمدیہ سے خطاب ۱۳ اپریل ۱۹۶۷ء کو جامعہ احد یہ ربوہ میں تقسیم انعامات کی سالانہ تقریب تھی۔اس موقع پر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے حسب ذیل خطاب فرمایا :۔اس وقت میں مختصراً اپنے عزیز بچوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ، وہ نوجوان یا بڑی عمر کے مرد یا عورتیں جو خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں۔وہ اس معنی میں اپنی زندگیاں وقف کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں اِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (یونس: ۶۶) دنیا میں اگر کوئی شخص حقیقی عزت پاسکتا ہے تو محض اپنے رب سے ہی پاسکتا ہے۔اس لئے اگر ساری دنیا ان کی بے عزتی کے لئے کھڑی ہو جائے اور انہیں بُرا بھلا کہے تو وہ سمجھتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ عزت کی جگہوں کی خود تلاش نہیں کرتے ، نہ عزت واحترام کے فقروں کو سننے کی خواہش ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔بلکہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے