تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 51 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 51

تاریخ احمدیت۔جلد 24 مرکز میں علمی تقاریر 51 سال 1967ء اس سال بھی حضرت خلیفہ امسح الثالث کی صدارت میں علمی تقاریر کاسلسلہ جاری رہا۔اور اس سلسلے میں بالترتیب ۲۱ / اپریل، ۱۷ جون ۱۹۶۷ ء اور ا انومبر ۱۹۶۷ء کو اجلاس عام ہوئے۔جن میں مندرجہ ذیل علماء اور بزرگان سلسلہ کی تقاریر ہوئیں۔جناب شیخ بشیر احمد صاحب سابق حج ہائیکورٹ لاہور، مولوی غلام احمد صاحب بد وملهوی فاضل سابق مبلغ گیمبیا، سید میر مسعود احمد صاحب ایم۔اے سابق مبلغ ڈنمارک، مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل، چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے پروفیسر تعلیم الاسلام کالج ربوہ ، ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے ایڈیٹر تفسیر القرآن (انگریزی)، مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری،(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب۔۲۱ اپریل ۱۹۶۷ء کے اجلاس کے آخر میں سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے زار روس سے متعلق پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل پیشگوئی عصائے روس کے متعلق ہے جو کشفی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام روس میں پھیل کر رہے گا۔اللہ تعالی نے زار روس کے حشر کے متعلق پیشگوئی کو پورا کر کے ہمیں یہ باور کرایا ہے کہ جس خدا نے اس پیشگوئی کو پورا کر دکھایا ہے۔وہی قادر و توانا خدا بالآخر ایسے حالات بھی پیدا کرے گا کہ روس میں ہر طرف اسلام ہی اسلام ہو گا۔ہمیں چاہئیے کہ اس راہ میں ہمیں جو قربانیاں بھی دینی پڑیں دیں اور بشاشت سے دیتے چلے جائیں۔۱۷ جون ۱۹۶۷ء کے اجلاس کے آخر میں حضرت خلیفہ امسح الثالث نے احباب کو ایک مختصر خطاب سے سرفراز فرماتے ہوئے انہیں عظیم الشان خدائی بشارتوں کے ظہور سے متعلق ان کی عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا اگر ہم اس راہ میں پیس بھی ڈالے جائیں اور ہمارا غبار ہوا میں اڑا دیا جائے پھر بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اس راہ میں جن قربانیوں کی ضرورت ہے ان کا حق ادا کر دیا۔یہ عظیم الشان انقلاب جس کے نتیجہ میں اسلام کا روئے زمین پر غالب آنا مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی رونما ہوگا۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں اور ساتھ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے اور محض