تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 53
تاریخ احمدیت۔جلد 24 53 سال 1967ء رب کی نگاہ میں عزت حاصل کر لیں۔اگر اُن کا دل اللہ تعالیٰ کے بتانے پر یا اس کے سلوک کی وجہ سے یہ سمجھ لے کہ ہم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں معزز ہیں تو وہ ان ساری عزتوں کو جو د نیوی ہیں ٹھکرا دیتے ہیں اور ان سے خوشی محسوس نہیں کرتے کیونکہ حقیقی خوشی انہیں حاصل ہو جاتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے والے یہ جانتے ہیں کہ حقیقی رزاق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔اس لئے دنیا کے اموال کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی نہ وہ اس بات کے پیچھے پڑتے ہیں کہ انہیں دنیا کے رزق دیئے جائیں۔نہ وہ اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے گزاروں میں ایزادی کی جائے کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حقیقی رزاق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔اور وہ اپنے سبھی بندوں کے لئے اسی طرح معجزے دکھاتارہتا ہے۔جیسا کہ اس نے اپنے اور ہمارے محبوب محمد رسول محے کو دکھائے کہ پانی کو ہوا میں سے پیدا کر دیا ہے اور لوگوں نے یہ نظارہ دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں سے پانی بہہ رہا ہے۔انگلی تو ایک پردہ تھی قدرت خداوندی کے نظارہ کو دیکھنے کے لئے یا آٹے کی اس بوری کی طرح جس میں اس وقت تک برکت رہی جب تک بدظنی کے نتیجہ میں گھر والوں نے اسے تول نہ لیا اور برکت جاتی رہی یا تھوڑا سا کھانا تھا لیکن کھانے والے بہت زیادہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس کھانا میں برکت ڈال دی۔سب نے کھانا کھالیا لیکن وہ پھر بھی بیچ گیا یا اُس دودھ کے پیالے کی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو سیر کرنے کے لئے آیا تھا ( گواس پیالہ کا بھیجنے والا تو ایک انسان ہی تھا۔لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہی آیا تھا ) نبی کریم ﷺ نے مجلس کے ہر آدمی کو کہا کہ پہلے تم اس سے سیر ہو کر پی لو۔پھر میں اس سے پیوں گا۔کیونکہ آپ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میں سیر ہو جاؤں۔چاہے سارے لوگ سیر ہو کر اس سے دُودھ پی لیں۔دُودھ ختم نہیں ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وہ خدا تعالیٰ جس کے قبضہ قدرت میں یہ ساری باتیں ہیں۔وہ ویسا ہی آج بھی قدرت والا خدا ہے اور ہر واقف زندگی اس بات کو سمجھتا ہے۔ہماری جماعت