تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 679
تاریخ احمدیت۔جلد 24 657 سال 1968ء شاید سٹیشن ماسٹر کو علم ہو۔چنانچہ ان کا خیال درست نکلا۔نام و پستہ وغیرہ دریافت کر کے مکان پر آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط لکھا کہ مجھے آپ کے حالات معلوم نہیں صرف نام سنا ہے۔اگر براہ کرم اپنی تصانیف بھیج دیا کریں تو پڑھ کر واپس کر دیا کروں گا۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کتابیں بھجواتے رہے اور بھائی صاحب پڑھ پڑھ کر واپس کرتے رہے۔لوگوں نے اسی وقت سے مخالفت شروع کر دی۔مگر بھائی صاحب نے استقلال سے کام لیا۔اور کچھ عرصہ بعد بیعت کر لی۔میں نے بھی کچھ عرصہ بعد بھائی صاحب کے ذریعہ کتابیں پڑھیں اور بیعت کر لی۔احمدیت سے کچھ عرصہ پہلے شہر سے گھر گیا اور اتفاق سے والد صاحب ہی کے ساتھ سویا۔خواب میں والد صاحب کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا تیرا یہ لڑکا جو تیرے ساتھ سویا ہوا ہے بہت بڑا وکیل ہوگا۔والد صاحب بہت خوش ہوئے۔لیکن جب میں احمدی ہو گیا اس وقت والد صاحب سے کہا کہ آپ کے خواب کی تعبیر میرا احمدی ہونا ہے۔احمدی ہونے سے چند ماہ پہلے ایک خواب دیکھا کہ میں مر گیا ہوں اور نہلا دھلا کر کفن پہنا دیا گیا ہے۔مگر چہرہ کفن سے خالی ہے۔گھر کے سب لوگ رو پیٹ رہے ہیں میں انہیں سمجھا تا ہوں کہ میں تو اچھا بھلا ہوں۔مجھے تو کوئی تکلیف نہیں۔آپ لوگ روتے کیوں ہیں۔مگر میری آواز کو لوگ نہیں سنتے۔پھر میں دل میں کہتا ہوں کہ سنا تھا کہ مردہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے اور بولتا بھی ہے مگر اس کی آواز دوسرے نہیں سنتے۔سو یہی حال یہاں ہے۔چنانچہ میرے احمدی ہونے اور خاص کر قادیان آنے پر بہت کچھ رونا پیٹنا ہوا۔مگر میری آواز پر کسی نے کان نہیں دھرا۔احمدی ہونے کے بعد ایک مرتبہ گھر پر شمالاً وجنوباً برآمدہ میں سویا ہوا تھا کہ دیکھا کہ شمال مغرب میں (میرے گھر سے قادیان بالکل شمال مغرب میں ہے) آسمان میں زمین سے چند نیزہ اوپر چاند ہلال کی شکل میں ہے۔میرے دیکھتے دیکھتے چاند بڑی تیزی سے نیچے جاتا ہے۔اور پھر جب اپنے مقام پر آتا ہے تو بجائے ہلال کے پورا چاند ہوتا ہے۔اور میری پیشانی میں داخل ہو جاتا ہے۔اسی طرح پانچ مرتبہ ہوا اور میں نے بہت شور مچایا کہ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بدولت میری پیشانی کیسی روشن ہے کہ میری پیشانی کی روشنی سے در و دیوار بھی روشن ہیں۔رسالہ الوصیت شائع ہوتا ہے بھائی صاحب منگواتے ہیں۔میں پڑھ کر کہتا ہوں کہ اس رسالہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دشمنوں کے ایک زبر دست اعتراض کو خاک میں ملا دیا ہے۔بھائی صاحب نے پوچھا کہ وہ