تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 611 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 611

تاریخ احمدیت۔جلد 24 589 سال 1968ء بوگور، چی آنجور، بانڈ ونگ، گاروت، چی ماہی، دانہ سگرا، سنگا پر نا اور تاسک ملایا کی جماعتیں شامل ہیں۔سنگا پر نا کی جماعت ڈسٹرکٹ تا سک ملایا کی ابتدائی جماعت ہے۔یہاں کے احمدی احباب کو قبول حق کے بعد شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا تھا۔جاپانی حکومت کے دور میں علماء کی طرف سے جاپانی حکام کو متواتر شکایات پہنچائی گئیں کہ یہ لوگ انگریزوں کے جاسوس ہیں اور اس علاقہ میں ایک منظم سازش کے ذریعہ بغاوت کرانے کا پروگرام مرتب کر رہے ہیں۔اس بناء پر جاپانی حکومت نے سنگا پر نا اور تا سک ملایا کے چیدہ چیدہ احمدی احباب اور مبلغین جماعت کو جو اس علاقہ میں کام کر رہے تھے یعنی ملک عزیز احمد صاحب مرحوم اور مولوی عبدالواحد صاحب سماٹری کو قید کر لیا اور بانڈ ونگ کے اُس جاپانی قید خانہ میں ڈالا گیا جس کے متعلق اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جو شخص بھی وہاں قید کیا گیا وہ ہمیشہ کے لئے لاپتہ ہو گیا۔اس قید خانہ میں جو مظالم ڈھائے جاتے تھے ان کوسن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے مسیح کے یہ غلام باوجود ان سب مصائب کے خیر و عافیت کے ساتھ اس قید خانہ سے رہا کئے گئے۔اس کے بعد بھی عوام کی طرف سے بائیکاٹ اور دیگر مختلف مصائب اور تکالیف کا سلسلہ برابر جاری رکھا گیا لیکن یہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص اور قربانی میں برابر ترقی کرتی رہی۔اس جماعت کے اکثر احباب موصی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو باعزت اور وافر رزق سے حصہ عطا فرمایا ہے۔اسی طرح دانا سگرا جو ڈسٹرکٹ تا سک ملایا کا ایک موضع ہے اور جس کی اکثریت احمدی ہے اس جماعت کے افراد کو بھی محض احمدیت کے باعث متواتر مظالم کا نشانہ بننا پڑا۔۱۹۵۲ء سے ۱۹۶۰ء تک یہ گاؤں دار السلام والوں کے مظالم کا تخیہ مشتق بنارہا ( یادر ہے کہ دارالسلام کی تحریک وہ تھی جو اسلام کے نام پر قتل و غارت اور لوٹ مارکو عین اسلام بجھتی تھی ) دومرتبہ اس گاؤں کو جلایا گیا۔متعدد بار ان کے اموال لوٹ کر انہیں خالی ہاتھ گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔مالی نقصان کے علاوہ یہاں جماعت کو جانی قربانیاں بھی دینی پڑیں۔مگر یہ مخلص جماعت پورے عزم اور استقلال اور صبر سے ہر مصیبت کا مقابلہ کرتی رہی۔اللہ تعالیٰ نے جہاں ان کے ایمان اور اخلاص میں بے حد ترقی عطا فرمائی وہاں ان کو دنیاوی رنگ میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رکھا۔اسی طرح چی آنجور کے نواحی علاقہ میں بھی دار السلام والوں نے محض احمدیت کی وجہ سے احمدیوں کو شہید کیا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے پائے استقلال میں کبھی کوئی ڈگمگاہٹ پیدا نہیں ہوئی۔