تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 612 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 612

تاریخ احمدیت۔جلد 24 590 سال 1968ء مكرم وكيل التبشیر صاحب نے مزید فرمایا کہ اس دورہ کے موقع پر تقریب ۱/۲۷افراد نے احمدیت قبول کی۔بیعت کرنے والوں میں سے دو تین کا ضمنا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔بانڈ ونگ میں پریس کانفرنس کے موقع پر جو ایک دوست کے گھر پر منعقد کی گئی تھی ایک عیسائی دوست نے بیعت کی۔یہ چند ماہ سے زیر تبلیغ تھے لیکن مسلمان ہونے پر ابھی یہ آمادہ نہ تھے لیکن اس موقع پر پریس کانفرنس کے معابعد انہوں نے خواہش کی کہ میری ابھی بیعت لے لی جائے۔چنانچہ ان کی بیعت لی گئی اور مزید اس کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ پریس کے جملہ نمائندگان نے بھی بیعت کا نظارہ دیکھا اور بیعت کے الفاظ سنے۔دوسرا بیعت کا واقعہ جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ بانڈ ونگ میں ایک بڑے تاجر کی بیعت کا واقعہ ہے۔ان کے ایک لڑکے اور ان کی بیوی نے تین ماہ قبل بیعت کی تھی لیکن یہ صاحب ابھی مائل نہ تھے۔بانڈ ونگ میں جمعہ کا خطبہ میں نے دیا جس میں یہ موجود تھے۔جمعہ کے بعد مجھ سے ملے تو میں نے ان سے عرض کی کہ آپ دعا اور استخارہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کو انشراح عطا فرمائے گا۔چنانچہ دوسرے ہی روز انہوں نے بیعت کرنے کی خواہش کی اور ان کی بیعت لی گئی۔یہ صاحب بااثر ہیں۔ان کی اہلیہ صاحبہ جو ان سے قبل احمدی ہو چکی تھیں جنرل امیر محمود کی اہلیہ کی بہن ہیں اور ان کی بیعت کی وجہ سے جنرل صاحب کے رویہ میں بھی خوشگوار تبدیلی نظر آتی ہے۔تیسرا بیعت کا واقعہ جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ مرتو لو صاحب کی اہلیہ صاحبہ کا ہے۔مرتو لو صاحب گزشتہ چند سال سے احمدی ہیں اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے عہدہ پر فائز ہیں۔بہت مخلص دوست ہیں لیکن ان کی اہلیہ صاحبہ نہ صرف یہ کہ احمدی نہ ہوئیں بلکہ وہ احمدیت کے متعلق کوئی بات سننے کے لئے بھی تیار نہ تھیں اور اس بات کا ان کے شوہر محترم پر بہت اثر تھا۔کیونکہ ان کی بیوی کا رویہ معاندانہ اور متعصبانہ تھا اور اس طرح وہ سمجھتے تھے کہ اس وجہ سے وہ جماعت کی بہت سی خدمات سے محروم رہتے ہیں۔امسال جب مرکزی عہدیدارانِ اعلیٰ کے انتخابات ہوئے تو مسٹر مرتو لو صاحب جماعت ہائے احمد یہ انڈونیشیا کے پریذیڈنٹ منتخب ہوئے۔میں جب جا کرتہ پہنچا تو میں نے مرتو لو صاحب سے پوچھا کہ اب آپ کی بیگم کا احمدیت کے متعلق کیا رویہ ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اُسی طرح کی سختی ہے اور وہ اس طرف بالکل مائل نہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں بھی حسب توفیق دعا کروں گا آپ بھی دعا کریں مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس دورہ کے دوران ہی