تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 610 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 610

تاریخ احمدیت۔جلد 24 588 سال 1968ء جماعت کی طرف سے استقبالیہ دیا گیا جس میں بعض غیر ملکی سفارتی نمائندے اور دوسرے غیر از جماعت دوست بھی شامل ہوئے۔اس تقریب پر ایڈریس کے بعد میری انگریزی میں تقریر تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوئی اور تعلیم نیز جماعت احمدیہ کی مختلف ممالک میں تبلیغی کوششوں کا اختصار سے ذکر تھا۔اس تقریب کو ٹیلیویژن کے محکمہ نے ریکارڈ کیا۔تقریر کے بعد اسی ہال میں اس موقع پر بعض دوستوں نے بیعت کی اور بیعت کا یہ نظارہ بھی ٹیلیویژن والوں نے ریکارڈ کیا اور یہ ساری فلم ۲۴ تاریخ کی شام کو ۸ بجے اس ہفتہ کے اہم واقعات کے پروگرام کے تحت ٹیلی وائز کی گئی۔ٹیلیویژن پر جب یہ الفاظ کہ اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ نیز یہ الفاظ کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین کروں گا“ نیز یہ کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ بیعت کے نظارہ کے ساتھ گونج رہے ہوں گے تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ان ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں تک جنہوں نے یہ پروگرام دیکھا ایک نہایت مؤثر رنگ میں احمدیت کی تعلیم اور معتقدات پہنچے۔اور اس طرح بہت سے دلوں سے ان غلط فہمیوں کے ازالہ کا موجب ہوئے جو معاندین کی طرف سے ہمارے خلاف پھیلائی جاتی ہیں۔اس کے بعد ۲۹ اکتوبر کو دوبارہ یہی پروگرام ”گزشتہ ہفتہ کے اہم واقعات کے پروگرام کے تحت نشر کیا گیا۔اس مرتبہ پہلے پروگرام کی نسبت زیادہ دیر تک میری تقریر کا حصہ دکھایا گیا۔جس کے ساتھ اناؤنسر کی طرف سے یہ ریمارکس تھے :۔۲۳ اکتوبر کو جماعت احمدیہ کی Reception میں وکیل التبشیر نے علاوہ اور امور کے یہ بیان کیا کہ جماعت احمدیہ کے بانی نے قرآن کریم سے یہ ثابت کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اپنے وقت پر دنیا کی ہر قوم میں اپنے نبی اور پیغمبر مبعوث فرماتا رہا ہے اور ایسے فرستادہ خدا کی طرف سے دنیا کے لئے بھلائی کا پیغام لاتے رہے ہیں۔پس اسلام نے یہ نکتہ پیش کر کے دنیا میں ایک بین الاقوامی اخوت قائم کی ہے اور مختلف انبیاء کی عزت واحترام قائم کر کے ایک بین الاقوامی امن کی بنیاد رکھی ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ مذہب کی بناء پر ایک دوسرے سے جھگڑے کئے جائیں اور فسادات کئے جائیں۔وکیل التبشیر نے مزید کہا کہ اسلام مذہبی رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔انڈونیشیا میں قیام کے دوران جا کرتہ کے علاوہ بعض اور شہروں کے دورہ کا بھی موقع ملا جن میں