تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 551
تاریخ احمدیت۔جلد 24 529 سال 1968ء دیتے ہوں گے۔پھر بھی ان کی انتظامیہ حس بیدار نہیں ہوئی !۔ہمارے اندازے کے مطابق متذکرہ مذہبی جماعت کے افراد کا نقصان پانچ حد چھ سوروپے کے لگ بھگ کا ہوا ہوگا اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں کا کم و بیش پانچ چھ ہزار۔کیا یہی بات یہ بھانپ جانے کے لئے کافی نہیں کہ جلوس کس کے خلاف تھا۔پھر چنیوٹ کی انتظامیہ منہ میں گھونگھیاں ڈالے کس شوق میں بیٹھی رہی۔اور شرافت دشمن پولیس کے سامنے شہری امن کو کس طرح بر باد کرتے رہے رات تک سوچ بچار کے بعد ہم تو اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہاں شاید اپوزیشن کے حامی اور اس سے در پردہ ملے ہوئے سرکاری افسروں کا راج ہے۔جس کے باعث اپوزیشن نے اپنی تخریبی سرگرمیوں کا آغاز یہاں سے کیا ہے۔ورنہ حکومت کے پکڑے ہوئے ایک شخص کے حق میں اس قدر تخریبی مظاہرہ اور حکومت کے کارندوں کی طرف سے اتنی ڈھیل اور مہلک چشم پوشی۔اس سے پہلے تو اتنی دیدہ دلیری کبھی سننے میں نہ آئی تھی۔ہم پر یہ راز اُسی دن کھلا کہ اپوزیشن صوبے کی انتظامیہ عمارت میں کہاں تک نقب لگا چکی ہے۔بسا ممکن ہے کل کلاں کو کسی سرکاری تقریب یا جشن کا آغاز کرتے ہوئے یہاں کے افسر اعلیٰ بھی ”ہمارے محبوب صدر کے الفاظ ہی سے اپنی تقریر کا آغاز کریں۔لیکن جتنی گالیاں اُن کی مہلک چشم پوشی نے ان خوردہ پشتوں سے حکومت اور سر براہ حکومت کو اس جلوس والے دن دلوائی ہیں ان کی تو نظم و نسق کی سہل انگاری کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی۔عتیق الرحمن ( شیخ ) از راولپنڈی مجلس خدام الاحمدیہ کی پندرھویں مرکزی تربیتی کلاس 58 سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مورخہ ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ء کو ساڑھے پانچ بجے شام ایوان محمودر بوہ میں تشریف لا کر مجلس خدام الاحمدیہ کی پندرھویں مرکزی تربیتی کلاس کا افتتاح فرمایا۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے خدام کو افتتاحی خطاب سے نوازتے ہوئے انہیں اپنی زندگیوں میں اسلام کا اعلی نمونہ پیش کرنے کی تلقین فرمائی حضور نے فرمایا اگر احمدی نوجوان صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق زندگیاں گزارنے والے ہو جائیں تو دنیا میں ایک انقلاب عظیم رونما ہوئے بغیر نہ رہے گا۔مجلس خدام الاحمدیہ کی یہ پندرھویں مرکزی تربیتی کلاس دو ہفتہ جاری رہنے کے بعد مورخہ امئی ۱۹۲۸ء کوکامیابی اور خیر وخوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے امئی 59