تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 550
تاریخ احمدیت۔جلد 24 528 سال 1968ء اس جلوس نے لگے ہاتھوں اپنی شورش پسندی کو اسلامی بنانے کے لئے ایک مذہبی جماعت کے افراد پر بھی دست درازیاں کیں۔ان کے گھروں پر بغیر کسی اشتعال کے پتھراؤ کیا۔ان کی دوکانوں کے چھتے ، شوکیس اور بینچ وغیرہ توڑے اور منہدم کئے گئے۔ان کی ماؤں بہنوں اور روحانی بزرگوں کو سر عام غلیظ گالیاں دی گئیں۔اس کے بعد جلوس اپنے اصل مقصد کی طرف مائل ہوا۔دو ہائی سکولوں اور بعض سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے شیشے، کھڑکیاں اور دروازے توڑے۔صدر ایوب کو ( فیملی پلاننگ کی آڑ لے کر ) غلیظ ترے سنائے گئے۔اُس ہائیکورٹ کو مغلظ گالیاں دی گئیں جس نے پچھلے دنوں اپنے کسی فیصلے میں یہ قرار دیا تھا کہ:۔آئین پاکستان کی رُو سے ہر شہری کے حقوق برابر ہیں اور ہر ایک کو ( جو بھی اُسے اپیل کرے) مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔کسی بھی پاکستانی شہری کا یہ آئینی حق دہشت پسندی یا شوره پیشتی سے چھینا نہیں جاسکتا“۔مجھے تو یہ ساری بلہ بازی دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی خاص بیرونی ادارے نے ان لوگوں کو شریف طبائع میں اسلام سے نفرت پیدا کرنے کا ٹھیکہ دے کر بھیجا ہو۔ورنہ مذہب اور اس قدر شرافت و انسانیت دشمنی ! شام کے وقت جو ہمیں اپنے کام ہی کے سلسلہ میں شہر کے مختلف حصوں میں جانا پڑا۔تو ہم نے شہر کے ہر محلہ کی دیواروں اور مکانوں پر ایک مذہبی فرقے کے خلاف نہایت اشتعال انگیز نعرے لکھے ہوئے دیکھے۔یہاں تک کہ یہ خطرناک انسانیت دشمن نعرے سرکاری دفاتر ، اعلیٰ سرکاری افسروں کے بنگلوں حتی کہ تھانے کی دیواروں پر بھی لکھے ہوئے تھے۔دل نے کہا۔یہ تو واقعی مشکل کام ہے کہ ہر گھر پر ایک پولیس کانسٹیبل کا پہرہ ہو۔جو کسی کو رات کی تاریکی میں بھی دیواروں پر لکھنے نہ دے اور نہ تاریکی کے ایسے سپوتوں کا پکڑنا ہی آسان ہے لیکن ان غلیظ اور اشتعال انگیز نعروں کے سرکاری عمارتوں پر لکھے جانے کا مطلب؟ کیا یہ سرکاری حکام کی شہ پر لکھے گئے ہیں؟ اور ان کی مرضی اور منشاء کے ماتحت لکھے گئے ہیں؟ کیا یہ جلوس بھی انہی کے ایماء پر ہی نکالا گیا تھا۔ورنہ جلوس والے کسی گھر پر یا دوکان پر خوامخواہ پتھراؤ کریں اور پولیس والوں کی انتظامیہ غیرت صرف دیکھتی رہے؟ یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے جبکہ جلوس میں ایک بھی معتبر آدمی نہ تھا اور سب اسی قماش اور معیار کے افراد تھے جن کے لئے کسی ذمہ دار وفرض شناس تھانیدار کی صرف ایک ہی گھر کی کافی ہوتی ہے۔سرکاری عمارتوں پر لکھے ہوئے یہ تبرے تو یہاں کے افسر اعلیٰ کو بھی اپنے بنگلے سے نکلتے اور عدالت کو جاتے وقت دکھائی