تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 552 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 552

تاریخ احمدیت۔جلد 24 530 سال 1968ء کی شام ایوان محمود میں تشریف لاکر کلاس کے امتحانات میں امتیاز حاصل کرنے والے خدام میں اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے اور انہیں اختتامی خطاب سے نواز کر بیش قیمت نصائح سے سرفراز فرمایا۔حضور انور نے خدام کو اپنی زندگیوں میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کر کے حیات طیبہ کا وارث بنے کی تلقین فرمائی۔حضور نے ان پر واضح فرمایا کہ وہ قرآن مجید کے سب حکموں پر عمل پیرا ہوئے اور اعمال صالحہ بجالائے بغیر اور دعاؤں کے ذریعہ اس کے فضل کو جذب کئے بغیر اس حیات طیبہ کے وارث نہیں بن سکتے جو اس دنیا میں شروع ہوتی ہے اور پھر جہان اخروی میں ہمیشہ ہمیش جاری رہتی 60- ہے۔۱۹۶۸ء کی اس تربیتی کلاس میں مغربی پاکستان کی ۷۲ مجالس کے ۷۰ اخدام نے شرکت کی۔حضور انور کی ایک خواہش کا اظہار اور اس کی تکمیل حضور انور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کی پندرھویں سالانہ مرکزی تربیتی کلاس کے ہر طالب کے پاس تفسیر صغیر کا اپنا نسخہ ہو۔حضور نے اس خواہش کا ہی اظہار نہیں فرمایا بلکہ از راہ شفقت اس غرض کے لئے تین صد ر و پے مرحمت فرمائے۔چنانچہ اس رقم سے رعایتی قیمتوں پر کلاس کے بیشتر طلباء کو تفسیر صغیر کے نسخے مہیا کئے گئے اور جو طلباء رہ گئے تھے ان کے لئے حضور نے ۱۰ مئی کو اختتامی تقریب کے موقع پر مزید یک صد روپے عنایت فرمائے اور ہدایت فرمائی کہ ان سب کو بھی تفسیر صغیر کے نسخے فراہم کئے جائیں۔ایک استفسار اور اس کا جواب 61 ایک احمدی دوست نے تسبیح و تحمید اور درود شریف کی تحریک کے سلسلہ میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث سے تحریری استفسار کیا کہ درود شریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علیحدہ نام لے کر حضور کے لئے دعا کرنے کے بارہ میں کیا ارشاد ہے؟ حضور نے سائل کے جواب میں تحریر فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آل میں ہی شامل ہیں۔62 سوسائٹی آف سرونٹس آف گاڈ میں احمدی مبلغ کی تقریر بمبئی کے مشہور مذہبی اداروں میں ایک ادارہ سوسائٹی آف سرونٹس آف گاڈ ہے۔اس سوسائٹی کے زیر اہتمام ماہانہ اجلاسات ہوا کرتے تھے اور گاہے گاہے جماعت احمدیہ کو بھی اس میں اپنے خیالات کا اظہار کا موقع ملتا تھا۔اس سوسائٹی کے زیرا نتظام ایک بہت بڑا ادارہ این سی