تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 539 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 539

تاریخ احمدیت۔جلد 24 517 سال 1968ء کتاب ”المذاہب الاسلامیہ اور ماہنامہ ”فکر و نظر کا دلچسپ تبصرہ جامعہ قاہرہ کے پروفیسر اشیخ المحترم محمد ابوزہرہ نے ایک کتاب المذاہب الاسلامیہ نامی عربی زبان میں شائع کی۔اس کا اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد صاحب حریری ایم اے لائل پور نے کیا۔کتاب اسلامی مذاہب کے آخری حصہ میں جماعت احمدیہ کا بھی ذکر کیا۔اس کتاب میں مصنف نے جماعت احمد یہ اور ختم نبوت کے بارہ میں بحث کرتے ہوئے بعض خلاف واقعہ باتیں بھی تحریر کیں۔اس پر ماہنامہ فکر ونظر راولپنڈی کے فاضل مدیر جناب پروفیسر محمد سرور صاحب نے مذکورہ کتاب اسلامی مذاہب پر تبصرہ کے ذیل میں تحریر فرمایا کہ ”جہاں تک ہم جانتے ہیں قادیانی یا احمدی جماعت اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان اجماعی عقائد میں سے صرف نوعیت نبوت کے متعلق اختلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا احمدی بھی مانتے ہیں اور بقول ان کے مرزا صاحب نے اپنے آپ کو جن معنوں میں نبی کہا وہ نبوت محمدی کا ایک فیض اور ظل ہے۔چنانچہ خود شیخ ابوزہرہ نے اس سلسلہ میں مرزا صاحب کا ایک اقتباس دیا ہے جو یہ ہے کہ اگر میں آپ کی امت میں سے نہ ہوتا اور آپ ﷺ کے طریقہ کی پیروی نہ کرتا تو مکالمہ ربانی سے مشرف نہ ہو پاتا اگر چہ میرے اعمال پہاڑوں کے برابر ہوتے۔اس لئے کہ نبوت محمدی ﷺ کے سوا سب نبوتیں منقطع ہو چکی ہیں۔لہذا آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہ ہوگا البتہ غیر تشریعی نبی آسکتے ہیں لیکن ان کا آپ کی امت میں ہونا ضروری ہے۔مرزا صاحب نے تشریعی نبوت اور غیر تشریعی نبوت کی جو تقسیم کی ہے اس سے خواہ ہمیں لاکھ اختلاف ہولیکن اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ مرزا صاحب اور ان کے تتبع احمدی، رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کو خاتم النبیین نہیں مانتے ، یا وہ توحید کے منکر ہیں ، یا ان کا عقیدہ قرآن اور احادیث پر نہیں۔بلکہ جہاں تک ہم جانتے ہیں مرزا صاحب نے اپنی جماعت سے یہاں تک کہا تھا کہ وہ فقہ میں حنفی کی پابندی کریں۔غرض نبوت کو اس طرح ماننے پر ہم انہیں بیشک مؤول ( تاویل کرنے والے ) کہہ سکتے ہیں جیسا کہ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کی رائے تھی لیکن انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا جیسا کہ شیخ ابو زہرہ نے دیا ہے ہمارے نزدیک زیادتی ہے۔51