تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 540
تاریخ احمدیت۔جلد 24 518 سال 1968ء مباحة متقی وسط اپریل ۱۹۶۸ء میں ہندوستان کے مشہور پادری عبدالحق صاحب مجھی کونسل آف چرچز کی دعوت پر نبی آئے۔اور اپنی پلک تقریروں میں اسلام کو خاص طور پر اعتراضات کا نشانہ بنایا۔جس پر جزیرہ کے بعض غیور مسلمانوں نے مولانا نور الحق صاحب انور انچارج بھی مشن سے پر زور درخواست کی کہ اس پراپیگنڈا کا دفاع ضروری ہے اور یہ کام آج دنیا میں صرف احمدی کر سکتے ہیں۔افہام و تفہیم کے بعد مندرجہ ذیل آٹھ مضامین پر تحریری مناظرہ قرار پایا:۔(۱) توحید (۲) کیا مسیح ناصری الہ مجسم ہے؟ (۳) کیا بائبل خدا کا کلام ہے؟ (۴) کیا قرآن شریف کامل الہامی کتاب ہے؟ (۵) کیا مسیح ناصری صلیب پر فوت ہوئے؟ (۶) کیا حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسیح موعود ہیں؟ ( ۷ ) کیا مسیح ناصری“ نجات دہندہ تھے؟ (۸) کیا اسلام میں نجات ہے؟ یہ بھی طے پایا کہ ہر مضمون پر سات سات پرچے ایک ایک گھنٹہ کے ہوں۔اور مناظرہ ۱/۲۲اپریل سے شروع ہو کر ۲۵ را پریل چار دن تک جاری رہے۔ہر روز دومضامین پر بحث لکھی جائے۔اور روزانہ شام کو ساڑھے سات بجے چرچل پارک لوتو کا میں پبلک کو فریقین اپنے اپنے تحریری پرچے سنا دیا کریں۔چنانچہ اسی کے مطابق شرائط ضبط تحریر میں آگئیں۔اور باہمی رضامندی سے فریقین کے دستخط شرائط نامہ پر ثبت ہو گئے۔بعد ازاں پادری صاحب کی درخواست پر مقام مناظرہ لوتو کا کی بجائے صودا تجویز ہوا۔اور قرار پایا کہ اس کا آغاز 4 مئی ۱۹۶۸ء کو ہو۔جس کا اعلان نجی ریڈیو اور اخبار نجی ٹائمنز میں با قاعدہ طور پر ہو گیا۔اس عظیم الشان مباحثے میں اسلام کو عظیم الشان فتح نصیب ہوئی اور حامیان تثلیث کو کھلی شکست سے دو چار ہو کر راہ فرار اختیار کرنی پڑی۔چنانچہ جناب شیخ عبدالواحد صاحب مبلغ نجی تحریر فرماتے ہیں:۔طریق کار یہ تھا کہ فریقین صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک متواتر سوائے دو پہر کے وقفہ کے آمنے سامنے بیٹھ کر مقررہ مضمون پر پرچے لکھتے اور شام کو ساڑھے سات بجے ڈڈلی سکول