تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 521 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 521

تاریخ احمدیت۔جلد 24 499 سال 1968ء اموال میں حصہ دار بنتا ہے اور ہر قسم کا ان کا خیال رکھا جاتا ہے ) تو وہ ذمہ داریاں ان کو نباہنی چاہئیں۔اگر وہ نہیں نباہیں گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد ٹھہریں گے اس سے بہتر ہے کہ پھر وہ ربوہ کو چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جائیں۔اسی تعلق میں حضور نے بعض اہم مثالیں دینے کے بعد مزید فرمایا:۔" آج میں چاہتا ہوں کہ اہل ربوہ کو اپنا پہلا مخاطب بناؤں (ویسے تو سارے احمدی ہی میرے مخاطب ہیں ) اور ان کو اس طرف متوجہ کروں کہ دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ ذمہ داری ہے۔دوسروں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے دنیوی سہولتیں آپ کو زیادہ دی ہیں اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ نیکیوں میں آپ آگے بڑھیں لیکن آپ تو بہتوں سے پیچھے رہ رہے ہیں اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ربوہ کو بڑی قربانیاں دینے کی توفیق دی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جہاں اکثریت مالی قربانیوں میں آگے ہی آگے بڑھنے والی ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی آمد کی صحیح تشخیص نہیں کرتے اور خصوصاً دکاندار ربوہ کے ماحول میں مہنگی اشیاء بیچتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں لیکن اپنے رب کی راہ میں زیادہ مال خرچ کرنے کی طرف وہ متوجہ نہیں ہوتے۔اگر وہ خدا کی راہ میں خدا کے لئے غلبہ اسلام کی خاطر ان اموال کا ایک بڑا حصہ خرچ کر دیتے تو ان کی بہت سی کمزوریاں بھی سَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمُ (آل عمران : ۱۳۴ ) کے ماتحت خدا تعالیٰ کی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ دی جاتیں لیکن وہ اس طرف متوجہ نہیں۔بچوں کی تربیت کی طرف بعض باپ اور مائیں متوجہ نہیں بہت سی رپورٹیں آتی ہیں کہ راستوں پر بچے گالیاں دیتے سنے گئے۔احمدی بچہ ربوہ کے ماحول میں تربیت یافتہ ، اگر گلیوں میں گالیاں دیتا ہے تو اس کے ماں باپ کو یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیئے۔ماؤں کو خصوصیت کے ساتھ میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ بعض کمزوریاں ان میں ایسی ہیں کہ ان کو مردوں کی نسبت زیادہ توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کو مال دیتا اور اولا د دیتا ہے تو ہزار قسم کی سہولتیں آپ کیلئے پیدا کرتا ہے تو ہزار قسم کی ذمہ داریاں بھی آپ پر عائد کرتا ہے محض ربوہ کی رہائش محض جماعت احمدیہ کا کارکن ہونا کافی نہیں۔