تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 520 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 520

تاریخ احمدیت۔جلد 24 498 سال 1968ء ہو۔لیکن ان دو شہروں کے متعلق تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی احمدی آبادی ربوہ کی آبادی کے کم و بیش برابر ہے لیکن وہاں کے ضرورت مند بڑی تکلیف میں بعض دفعہ ہوتے ہیں۔ایک حد تک جماعتیں ان پر خرچ بھی کرتی ہیں لیکن اتنی رقم ایک لاکھ سے زائد رقم ) وہاں کے ضرورتمند احمد یوں پر خرچ نہیں ہو رہی۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا فضل ہے جو بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے لیکن اگر ربوہ کے مکین اپنی ضرورتوں کے وقت جماعت سے یہ تو کہیں کہ وَفِي أَمْوَالِهِم حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ کے ماتحت ہماری ضرورتوں کو پورا کرو۔لیکن جب انہیں یہ کہا جائے کہ روح مسابقت دوسروں کی نسبت تم میں زیادہ ہونی چاہیئے۔نیکیوں کی طرف تمہیں زیادہ متوجہ ہونا چاہیئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں زیادہ خلوص کے ساتھ اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنی زندگیاں تمہیں گزارنی چاہئیں دوسری جماعتوں کی نسبت کیونکہ تمہارا ماحول ان کے مقابلہ میں زیادہ پاکیزہ اور نیکیوں کے بجالانے کی یہاں زیادہ سہولت ہے۔تو تم سنتی دکھاؤ تو یہ اللہ کو پسند نہیں کہ اس کے دنیوی فضلوں میں تو حصہ لینے کی تم کوشش کرو اور عملا لو بھی۔لیکن اس کی راہ میں جب قربانیوں کا وقت آئے تو تم کہو کہ کراچی یہ قربانی دے۔لاہور یہ قربانی دے یا سیالکوٹ یہ قربانی دے۔یا پنڈی یہ قربانی دے یا پیشاور یہ قربانی دے ہم نہیں دیں گے تو یہ درست نہیں۔جو اخلاق غرباء سے تعلق رکھتے ہیں وہ نہایت حسین رنگ میں نمایاں طور پر ربوہ کے غریب احمدیوں میں نظر آنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کے اموال میں سے تو حصہ لیں لیکن اپنے بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں نہ کریں جو انہیں کرنی چاہیئے۔مثلاً ان کے بچے دوسروں کی نسبت زیادہ گندہ دہن ہوں۔گالیاں ان کی زبان پر ہوں یا تو فیق رکھنے کے باوجود اپنے کپڑوں کو زیادہ غلیظ رکھنے والے ہوں یا اپنے ماحول میں گند کو زیادہ پھیلانے والے ہوں تو یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔جب وہ اللہ تعالیٰ کی دنیوی نعمتوں میں حصہ دار خدا کے فضل سے بنائے جاتے ہیں تو جو قربانیوں کا وقت ہے جو ان پر ذمہ داریاں ہیں ربوہ کے شہری کی حیثیت سے یار بوہ کے شہریوں میں سے غریب طبقہ ہونے کی حیثیت سے (غریب طبقہ جماعت کے