تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 516
تاریخ احمدیت۔جلد 24 494 سال 1968ء ہے۔یعنی سبحان الله وبحمده سبحانَ اللهِ العظيم اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ “ اور ہمارے نوجوان بیچے پندرہ سال سے ۲۵ سال کی عمر کے ایک سو بار یہ تسبیح اور درود پڑھیں اور ہمارے بچے سات سال سے پندرہ سال تک ۳۳ دفعہ یہ تسبیح اور درود پڑھیں اور ہمارے بچے اور بچیاں ( پہلے بھی بچے اور بچیاں ہیں ) جن کی عمر سات سال سے کم ہے جو ا بھی پڑھنا بھی نہیں جانتے ان کے والدین یا ان کے سر پرست اگر والدین نہ ہوں ایسا انتظام کریں کہ ہر وہ بچہ یا بچی جو کچھ بولنے لگ گئی ہے۔لفظ اٹھانے لگ گئی ہے۔سات سال کی عمر تک ان سے تین دفعہ کم از کم یہ تسبیح اور درود کہلوایا جائے۔اس طرح پر بڑے (۲۵ سال سے زائد عمر کے ) دوسو دفعہ، جوان کم از کم ایک سو بار اور بچے تینتیس بار اور بالکل چھوٹے بچے تین بار تسبیح اور تحمید کریں۔پس جماعت کو چاہیئے اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور کم از کم مذکورہ تعداد میں ( زیادہ سے زیادہ جس کو جتنی بھی توفیق ملے ) اس ذکر و درود کو پڑھے اور اس احساس کے ساتھ پڑھے کہ بڑی ذمہ داری ہے ہم پہ تسبیح و تحمید اور درود پڑھنے کی۔انسان اس وقت بڑے نازک دور میں سے گزر رہا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے اور آپ کی رحمتوں اور برکتوں کو کھینچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا لازمی ہے۔نیز فرمایا:۔ساری جماعت پر میں فرض قرار دیتا ہوں کہ اس طریق پر کہ بڑے کم از کم دوسو بار، جوان سوبار، بچے تینتیس بار اور جو بہت ہی چھوٹے ہیں وہ تین دفعہ دن میں تحمید اور درود پڑھیں۔اس طرح کروڑوں صوتی لہریں خدا تعالیٰ کی حمد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے نتیجہ میں فضا میں گردش کھانے لگ جائیں گی۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگنی چاہیئے کہ اے خدا! ہمیں تو فیق عطا کر کہ ہماری زبان سے تیری حمد اس کثرت سے نکلے اور تیرے محبوب محمد ﷺ پر ہماری زبان سے درود اس کثرت سے نکلے کہ شیطان کی ہر آواز ان کی لہروں کے نیچے دب جائے اور تیرا ہی صل الله