تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 498
تاریخ احمدیت۔جلد 24 476 سال 1968ء ہوا۔وہ بیروت یو نیورسٹی میں میرے شاگردوں میں سے تھا۔پھر میں نے اسے پاکستان میں دیکھا جبکہ وہ ادب اور حکمت میں ترقی کر چکا تھا۔عمر فروخ ، ۱۰/۲/۶۸ اس موقعہ پر مسجد نور راولپنڈی میں جماعت احمدیہ نے قرآن مجید کے تراجم کی نمائش کا انتظام کیا۔جس کا افتتاح صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے کیا۔بعض عرب مند و بین اور اسرار بن عبد المولیٰ اس موقعہ پر مسجد نور پنڈی میں آئے اور انہوں نے ایک رجسٹر میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔مشرقی پاکستان کی جماعتوں کا جلسہ سالانہ 23 جماعت ہائے احمد یہ مشرقی پاکستان کا اڑتالیسواں جلسہ سالانہ دارالتبلیغ واقع هم بخشی بازار روڈ ڈھا کہ میں مورخہ ۱۶ تا ۱۸ فروری ۱۹۶۸ء بروز جمعہ ہفتہ و اتوار منعقد ہوا۔جلسہ کی تیاری کافی عرصہ پہلے ہی شروع کر دی گئی تھی۔اخبارات میں اس کے متعلق اطلاعات بھی شائع ہوئیں۔ستر سے اوپر جماعتوں سے تقریبا ڈیڑھ ہزار احمدی افراد جلسہ میں شامل ہوئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے از راه شفقت مرکز سے جلسہ میں شرکت کے لئے محترم قاضی محمد نذیر صاحب فاضل ناظر اصلاح وارشاد اور مکرم مولوی سلطان محمود انور صاحب مربی سلسلہ کو بھیجا۔یہ مرکزی وفد مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۶۸ء کو بذریعہ ہوائی جہاز ڈھا کہ پہنچا۔اس سہ روزہ جلسہ میں جو خواتین کے اجلاس سمیت پانچ اجلاسوں پر مشتمل تھا، با ئیس اہم دینی و تربیتی موضوعات پر مدلل و موثر تقاریر ہوئیں۔مجلس ارشاد مرکزیہ کے تاریخی اجلاسات امارچ ۱۹۲۶ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مسجد مبارک ربوہ میں نماز مغرب کے بعد علمی تقاریر کا ایک نہایت ہی مبارک سلسلہ شروع فرمایا تھا۔اس سال بھی علمی تقاریر کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ذیل میں ان اجلاسات کی مختصر کارروائی تحریر ہے۔مورخه ۱۷ فروری ۱۹۶۸ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں سیدنا حضرت خليفة أمسیح الثالث کی زیر صدارت مجلس ارشاد مرکز یہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں علی الترتیب مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل نے رؤیا و کشوف اور الہام ووحی کی لغوی تعریف کے موضوع پر اور مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے وحی کی اقسام کے موضوع پر تقاریر کیں۔جن میں قرآن مجید کی آیات، آنحضرت ﷺ کی احادیث ، آئمہ سلف کی کتب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی