تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 497 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 497

تاریخ احمدیت۔جلد 24 475 سال 1968ء اور نمائش کی مزید تفصیلات کا علم ہوتا ہے۔جس کے مطابق بین الاقوامی اسلامک کانفرنس جو فروری ۱۹۶۸ء میں راولپنڈی میں منعقد ہوئی اس میں شرکت کیلئے اگر چہ نائیجیریا سے نمائندہ مسٹر گیوا احمدی تشریف لائے تھے۔اور مرکز کی طرف سے مولوی محمد اجمل صاحب اور مولوی غلام باری سیف صاحب بھی شریک ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث ان دنوں جابہ میں تھے۔آپ نے فرمایا وفد یہاں سے ہوتا ہوا جائے۔چنانچہ وفد حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور پھر حضور کی ملاقات کے بعد راولپنڈی گیا۔اس کا نفرنس میں مسٹر گیوا نے بھی اپنا مقالہ پڑھا۔احمد یہ وفد نے جو دو مقالے الگ الگ عناوین پر تیار کئے تھے (۱) اسلام کا معاشرتی عدل۔جس کے ذیلی عناوین تھے۔اسلام کا تصور اخوت و مساوات۔استحصال کا بکلی استیصال۔دولت کی پیداوار اور اس کی تقسیم۔اور دوسرا مقالہ اسلام کے عائلی قوانین پر تھا۔یہ دونوں مقالے چھپوا کر کا نفرنس کے سٹال پر رکھ دیے گئے ، جو ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔اس موقعہ پر روس کے مفتی ضیاء الدین بابا خانوف ان کے نائب اسرار بن عبدالمولی (مولا نفولف) جو قازاغستان کے دینی ادارہ کے سربراہ تھے، سے بھی وفد کی ملاقات ہوئی۔شام کے مفتی گفتارو، دمشق کے منیر الحصنی مفتی فلسطین اور دوسرے نمائندوں سے نیز بیروت سے صدر ایوب کی کتاب ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی کا عربی ترجمہ کرنے والے استاد عمر فروخ جو جامعہ بیروت العربیہ کے استاد تھے، سے بھی ملاقات ہوئی۔کانفرنس کا جو فوٹو جنگ افروری ۱۹۶۸ء راولپنڈی میں شائع ہوا اس میں مفتی روس اور استاد عمر فروخ کے درمیان مولوی غلام باری سیف صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔اخبار تعمیرا افروری ۱۹۶۸ء میں کانفرنس کے مندوبین کی جو تصویر شائع ہوئی اس میں مولانا محمد شفیع صاحب اشرف جوان دنوں راولپنڈی کے مربی تھے اور مولانا محمد اجمل صاحب اور گیوا صاحب کا فوٹو بھی شائع ہوا۔کانفرنس کے موقعہ پر استاد عمر فروخ نے اپنے قلم سے مولوی غلام باری سیف صاحب کی نوٹ بک میں لکھا۔عرفت السيد غلام باری سيف في بيروت اديباً مفكراً و كان من تلامذلي في جامعه بيروت العربيه ثم رأيته فى باكستان و قد ازداد ادباً و حكمة۔دستخط عمر فروخ ۱۰/۲/۲۸ میرا جناب غلام باری سیف کے ساتھ بیروت میں ایک مفکر ،ادیب کی صورت میں تعارف