تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 490 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 490

تاریخ احمدیت۔جلد 24 468 اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور ہماری ذمہ داریاں مختصر خطاب سلیمہ اختر صاحبه خطاب سال 1968ء مکرمه فاطمه اسامه صاحبه از امریکہ حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الثالث آیت خاتم النبین ﷺ کا صح مفہوم صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ تحریک تعلیم القرآن عہد رسالت ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسلمان عورت ٹاؤن ہال ایلنگ انگلستان میں ایک مجلس مذاکرہ امة المالک صاحبہ سیده نیم سعید صاحبه 14 ۱۹۶۸ء کے اوائل کا واقعہ ہے کہ انگلستان کے بہائی سنٹر آف ایلنگ (EALING) کے زیر انتظام ایلنگ شہر کے ٹاؤن ہال میں ایک مجلس مذاکرہ بعنوان ”مذہب میں عبادت بجا لانے کی آزادی“ کا انعقاد ہوا جس میں یہودی، عیسائی، بدھسٹ ، ہندو، بہائی اور زرتشتی مندوبین نے حصہ لیا۔اسلام کی نمائندگی کا شرف جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لنڈن کو حاصل ہوا۔عیسائی مندوب نے اپنی تقریر کا آغاز اس فقرے سے کیا کہ ”ہمارے مذہب میں آزادی ہرگز موجود نہیں اگر یہ آزادی ہوتی تو کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کا گلا کیوں گھوٹتے“۔اسی طرح ہندو مذہب جس میں برہمن اور شودر کے مقام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔بھلا اس موضوع کے متعلق کیا کہہ سکتا تھا۔یہودی ، بدھ اور بہائی مندوبوں نے اپنے دلائل کو اس حد تک ہی رکھا کہ ہمارے مذہب اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ سب سے محبت اور شفقت کا سلوک کیا جائے۔محترم امام صاحب نے فرمایا کہ باقی مذاہب تو اس بات کی تعلیم دیتے ہوں گے کہ آپس میں محبت و شفقت کا سلوک کیا جائے اور عبادات بجالانے میں آزادی دی جائے لیکن اسلام جہاں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہبی عبادت بجالانے میں مسلمانوں کو آزادی حاصل ہے وہاں ساتھ ہی اس بات کی تلقین بھی کرتا ہے کہ غیروں کی مذہبی آزادی کی حفاظت بھی کی جائے۔