تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 491
تاریخ احمدیت۔جلد 24 469 سال 1968ء آپ نے فرمایا کہ فتح یروشلم کے موقع پر حضرت عمر جب ایک فاتح جرنیل کے طور پر اس تاریخی شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے سب سے پہلے یہ خطبہ دیا کہ گو آج اسلام کا پرچم اس ملک میں لہرا رہا ہے لیکن ہر یہودی اور عیسائی کو اس بات کی کامل آزادی حاصل ہو گی کہ وہ اپنے اپنے طریق کے مطابق عبادات بجالائیں۔ان کے گرجوں اور کلیساؤں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے۔آپ نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ نبوت میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مسجد نبوی میں حاضر ہوا۔ان کے دورانِ قیام میں ان کا مذہبی دن بھی آگیا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ باہر صحرا میں جا کر اپنی عبادت بجالائیں اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں اسی ہماری مسجد میں اپنے طریق کے مطابق عبادت کر لو۔آپ نے فرمایا یہ مثالیں محض ماضی کی بھولی بسری ہوئی داستانیں ہی نہیں ہیں۔اس زمانہ میں اس کی یاد پھر تازہ کی گئی۔مسجد فضل لنڈن کے افتتاح کے موقع پر ہمارے امام اور خلیفہ سید نا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ میں اس مسجد کا افتتاح کرتا ہوں جہاں ہماری جماعت کے لوگ اس میں عبادت کریں گے وہاں ہر مذہب وملت کے پیروؤں کو بھی اس بات کی عام اجازت ہوگی کہ وہ جب چاہیں ہماری مسجد میں آکر اپنے مذہب کے مطابق عبادت کر سکیں۔محترم بشیر احمد صاحب رفیق نے اس موقع پر حاضرین سے پھر کہا کہ میں اس وقت امام مسجد لنڈن ہونے کی حیثیت سے آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ جب چاہیں ہمارے ہاں حاضر ہو کر مسجد کا احترام قائم رکھتے ہوئے عبادت کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تقریر کا سامعین پر خاص اثر ہوا اور مسٹر آر۔ڈی۔ای نے جو اس وقت صدارت کر رہے تھے مقررین کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسلام کی طرف سے پیش کردہ خیالات کامل و اکمل ہیں اور یہی تقریر سب پر غالب رہی ہے۔اس موقع پر انفرادی طور پر بھی ہمیں تبلیغ کا موقع ملا۔تمام مقررین سے ملاقات کی گئی۔اور ان کے پتے حاصل کر کے انہیں مشن ہاؤس میں آنے کی دعوت دی گئی۔مقررین کے علاوہ دیگر انگریز دوستوں سے بھی ملاقات کی اور اسلام سے متعلق ان کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں اپنا اور لنڈن مشن کا تعارف کرایا گیا۔